امریکی ریاست فلوریڈا کے کرسٹوفر ہارووڈ کو 6 سال سے زائد عرصے جاری رہنے والی 46.2 ملین ڈالر کی میڈیکیئر فراڈ سازش کی قیادت پر 20 سال قید کی سزا سنادی گئی۔
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق ہارووڈ ٹیلی ویزٹ ایم ڈی نامی ٹیلی میڈیسن کمپنی کے مالک تھے، جنہوں نے ٹیلی مارکیٹنگ مہم کے ذریعے میڈیکیئر مریضوں کو غیرضروری آرتھوٹک بریسز اور جینیاتی ٹیسٹ قبول کرنے پر آمادہ کیا۔ استغاثہ کے مطابق ہارووڈ نے ڈاکٹروں کو رقم دے کر ایسے آرڈرز پر دستخط کروائے جو میڈیکیئر کے ٹیلی میڈیسن قوانین کے خلاف تھے اور مریضوں سے کوئی حقیقی تعلق نہیں رکھتے تھے، پھر یہ دستخط شدہ آرڈرز طبی آلات فراہم کرنے والی کمپنیوں اور لیبارٹریوں کو فروخت کیے۔ حکام کے مطابق ہارووڈ خود بھی فلوریڈا میں کئی طبی آلات کمپنیوں کے مالک تھے، جن کے ذریعے میڈیکیئر کو لاکھوں ڈالر کے بل بھیجے گئے۔ مجموعی طور پر ہارووڈ نے میڈیکیئر کو 46.2 ملین ڈالر کے جعلی دعوے بھیجے، جن میں سے 17.9 ملین ڈالر کی ادائیگی ہوئی، جبکہ ہارووڈ نے ذاتی طور پر 10.4 ملین ڈالر سے زائد کمائے۔ ہارووڈ نے مارچ 2026 میں صحت کے فراڈ کی سازش کے جرم کا اعتراف کرلیا تھا، اور اب انہیں 20 سال قید کے علاوہ 1 کروڑ 79 لاکھ 42 ہزار 402 ڈالر ہرجانہ اور 1 کروڑ 4 لاکھ 31 ہزار 463 ڈالر کی رقم ضبط کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔