vosa.tv
Voice of South Asia!

ایڈمنٹن میں خالصتان ریفرنڈم،23ہزارسےزائدووٹ کاسٹ،اگلامرحلہ کیا ہوگا؟

0

ایڈمنٹن(نیوزڈیسک)کینیڈا کے شہر ایڈمنٹن میں خالصتان ریفرنڈم کا انعقاد کیا گیا، منتظمین کے مطابق 23 ہزار سے زائد افراد نے ووٹ کاسٹ کیے۔ریفرنڈم کے اختتام پر سکھز فار جسٹس کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں نے اگلے مرحلے کا اعلان کرتے ہوئے یکم نومبر سے 20 لاکھ ووٹرز کے اندراج کی مہم شروع کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔لیکن اس مہم کے مقاصد کیا ہیں؟ پنوں کا آئندہ کا لائحۂ عمل کیا ہوگا؟ اور اس ریفرنڈم کی سیاسی و قانونی حیثیت کیا ہے؟ دیکھیے یہ خصوصی رپورٹ۔

کینیڈا کے صوبے البرٹا کے شہر ایڈمنٹن میں خالصتان ریفرنڈم کا انعقاد کیا گیا، جہاں منتظمین کے مطابق 23 ہزار سے زائد افراد نے ووٹ ڈالے۔تقریب کا آغاز سکھ مذہبی روایات کے مطابق دعائیہ اجتماع سے ہوا، جس میں شرکاء نے اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ شرکت کی۔منتظمین کے مطابق، اس ریفرنڈم کا بنیادی مقصد بھارتی پنجاب کی علیحدگی اور ایک آزاد خالصتان کے قیام کے مطالبے کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنا ہے۔

ووٹنگ کے دوران بڑی تعداد میں شرکاء کی آمد اور طویل قطاروں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ منتظمین کا کہنا تھا کہ مقررہ وقت پر قطار میں موجود افراد کو ووٹ ڈالنے کا موقع دینے کے لیے پولنگ کے اوقات میں توسیع کی گئی۔شرکاء نے خالصتان کے حق میں نعرے لگائے اور سکھوں کے سیاسی مستقبل کے تعین کے لیے حقِ خودارادیت کا مطالبہ کیا۔ریفرنڈم کے اختتام پر سکھ فار جسٹس کے جنرل کونسل گرپتونت سنگھ پنوں نے اپنے ویڈیو  خطاب میں آئندہ کی حکمتِ عملی پیش کی۔

پنوں کے مطابق، ان کی تنظیم یکم نومبر سے 20 لاکھ ووٹرز کے اندراج کی مہم شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔انہوں نے اپنی حکمتِ عملی کے تین اہم نکات بیان کیے۔پہلا، دنیا کے مختلف ممالک میں خالصتان ریفرنڈم کے ذریعے حمایت کو متحرک کرنا۔دوسرا، بھارت میں حکومت مخالف سیاسی اور نوجوانوں کی تحریکوں کی حمایت کرنا۔اور تیسرا، بھارت پر بین الاقوامی اقتصادی دباؤ بڑھانے کے لیے کوششیں کرنا۔

پنوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور دیگر بھارتی حکام کے احتساب کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کا حوالہ دیتے ہوئے بھارتی حکومت پر الزامات عائد کیے، تقریب کے دوران خالصتان کے حق میں اور بھارتی وزیراعظم کے خلاف نعرے بازی بھی کی گئی۔ پنوں نے سکھ نوجوانوں سے قانونی حدود کے اندر رہتے ہوئے آتشیں اسلحے کی تربیت حاصل کرنے اور مجوزہ سکھ ہوم لینڈ سکیورٹی فورس میں شامل ہونے کی اپیل بھی کی۔منتظمین کے مطابق، خالصتان ریفرنڈم کا اگلا مرحلہ مارچ 2027 میں آسٹریلیا میں منعقد کرنے کا منصوبہ ہے۔

ایڈمنٹن میں ووٹنگ کا مرحلہ ختم ہو چکا ہے، لیکن منتظمین عالمی سطح پر اپنی مہم جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ اس مہم کو مستقبل میں کتنی عوامی اور سیاسی حمایت حاصل ہوتی ہے، اور بھارت، کینیڈا سمیت دیگر ممالک اس پر کیا مؤقف اختیار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.