امریکی ریاست ٹیکساس کی وفاقی عدالت نے ذہنی صحت کلینک کے مالک کو ملٹری ہیلتھ پروگرام ٹرائی کیئر سے 2 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے فراڈ، رشوت اور منی لانڈرنگ کے جرم میں مجرم قرار دے دیا۔
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق فورٹ ورتھ کی وفاقی جیوری نے 64 سالہ کیون کری کو مجرم قرار دیا، جو ٹیکساس اور فلوریڈا میں تین نجی ذہنی صحت کے حوالے سے کلینک چلاتا تھا۔ استغاثہ کے مطابق ملزم نے فوجی اہلکاروں، سابق فوجیوں اور ان کے اہل خانہ کو ایسی ٹی ایم ایس تھراپی کیلئے رضامند کرنے کیلئے 55 لاکھ ڈالر سے زائد کی رشوت دی جس کے وہ اہل نہیں تھے، اور کئی معاملات میں یہ تھراپی دی ہی نہیں گئی۔ حکام کے مطابق ملزم خود کو ڈاکٹر ظاہر کرتا تھا حالانکہ وہ ڈاکٹر نہیں تھا، اور اصل ڈاکٹروں کی اجازت کے بغیر ان کی شناخت استعمال کرکے ٹرائی کیئر کو بل بھیجتا رہا۔ استغاثہ کے مطابق ملزم نے ملازمین کو جعلی طبی ریکارڈ تیار کرنے کی ہدایت دی تاکہ فراڈ بلز کا جواز پیش کیا جاسکے۔ کلینک نے ٹرائی کیئر کو 2 کروڑ 60 لاکھ ڈالر سے زائد کے جعلی بل بھیجے، جن میں سے تقریباً ایک کروڑ 70 لاکھ ڈالر ادا کیے جاچکے ہیں۔ حکام کے مطابق ملزم نے فراڈ سے حاصل رقم ہوٹلوں، ایک پرتعیش کیسینو تھیم پارٹی اور ایک لاکھ ڈالر سے زائد مالیت کی سونے سے مزین ٹیسلا سائبر ٹرک پر خرچ کی۔ جیوری نے ملزم کو صحت کے فراڈ کے تین الزامات، غیرقانونی طبی رشوت کے تین الزامات اور مجرمانہ رقم سے مالی لین دین کے تین الزامات میں مجرم قرار دیا، جس میں ہر الزام پر زیادہ سے زیادہ 10 سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ کیس کی تحقیقات ایف بی آئی، ڈیفنس کریمنل انویسٹی گیٹو سروس اور محکمہ تحفظاتِ جنگجویان کے دفتر نے مشترکہ طور پر کیں۔