vosa.tv
Voice of South Asia!

برطانوی متنازعہ مبصر نے اسلام قبول کرلیا؟

0

امریکا سے حال ہی  میں ڈی پورٹ کیے  گئے   برطانیہ  کے دائیں  بازو کے متنازعہ اور اسلام مخالف  مبصر  مائلوینا پولَس   کے   بارے   میں یہ قیاس آرائیاں  شروع ہوگئی ہیں  کہ انھوں نے ملک بدری کے بعد اسلام قبول کرلیا ہے ۔

 متنازعہ  تقریروں اور سیاسی  تبصروں  کی   وجہ سے  مشہور   برطانیہ کے  دائیں  بازو  نظریات کے  حامل مائلو ینا پولس  نے  امریکا سے ملک  بدری کے ایک ہفتے  بعد 6 ستمبر  کو لندن سے   سماجی   رابطے کی  سائٹ ایکس پرصحیح  بخاری اور صحیح  مسلم  کا حوالہ دے کر انگریزی   ترجمعہ کے ساتھ ایک  حدیث نقل کی  جس کا   اردو  میں ترجمعہ  ہے کہ  ’’ تم میں سے جو لوگ جاہلیت میں بہترین تھے، وہی اسلام لانے کے بعد بھی بہترین ہیں بشرطیکہ وہ فہم و سمجھ حاصل کر لیں‘‘۔اس پوسٹ میں انھوں نے سبز رنگ  کی  ٹوپی بھی پہنی ہوئی ہے۔اس پوسٹ  سے چند گھنٹے  قبل بھی انھوں نے لند ن سے  ہی    اپنی ایک تصویر   اپ لوڈ کی  جس میں وہ کسی مسجد میں بیٹھے  بیان سماعت کر رہے ہیں۔ مائلو  ینا پولس کی پہلی پوسٹ کے  دس منٹ بعد  معرو ف شامی نژاد   امریکی اور شہری حقوق کے وکیل حسن  شبلی نے بھی ایکس  اکاونٹ پر ایک   تصویر پوسٹ کی جس   میں وہ مائلو ینا پولس کے ساتھ مسجد میں  بیٹھے ہوئے ہیں، اس پوسٹ میں حسن شبلی نے  لکھا کہ  الحمد اللہ    میں نے مائلو کو لندن میں ڈھونڈ لیا ، وہ  زندہ اور بالکل خیریت  سے ہیں ۔ان  پوسٹس  کے بعد سوشل  میڈیا پر یہ قیاس آرائیاں   جاری ہیں کہ مائلو ینا پولس نے اسلام قبول کرلیا ہے ،  دی ویسٹرن جنرل  نے بھی  اسی تناظر میں ایک آرٹیکل  شائع کیا ہے  ۔الجزیرہ کے مطابق    مائلو  ینا پولس    ماضی میں شدید  ترین  اسلام مخالف رہے ہیں  اور ان کا پورا کیئرئیر  ہی اسلام اور مسلمانوں کے  خلاف نفرت انگیز بیانات دینے پر مبنی رہا ہے  جس کی وجہ سے آسٹریلیا نے 2019 میں  ان پر ملک میں داخلے پر پابندی بھی  لگائی  تھی ۔تاہم  فی  الوقت  تک  مائلو ینا پولس نے باضباطہ  طور پرخود سے اسلام قبول کرنے کا  اعلان نہیں کیا ۔واضح رہے کہ امریکی محکمہ  داخلی سلامتی کے  مطابق  مائیلوینا  پولیس   سات  سال پہلے  14 مئی  2019 کو قانونی طریقے سے  امریکا آئے   لیکن   ویزا مدت ختم ہونے  کے بعد بھی ملک نہیں چھوڑا۔رواں سال جولائی میں  انھیں  امیگریشن  سماعت کے لیے طلب  کیا گیا جس میں وہ شریک نہ  ہوئے  ۔بالآخر امریکی امیگریشن اینڈ کسٹم  انفوسمنٹ نے  گزشتہ ماہ27 اگست کو ریاست لوزیاناکے نیو آرلینز  انٹر  نیشنل  ایئرپورٹ  سے حراست  میں لیا  تھا اور اس  کے اگلے ہی روز  انھیں ملک بدر کردیاتھا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.