سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کا طبی معائنہ اور علاج کرانے کے لیے انہیں دو روز کے اندر شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔
عدالت نے ہدایت کی ہے کہ ان کے علاج کے لیے ایک خصوصی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے جس میں فزیشن، جنرل سرجن، ماہر امراض قلب، ماہر امراض چشم اور ماہر داخلی طب شامل ہوں گے، جبکہ ڈاکٹر فیصل سلطان اور بانی کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کو بھی طبی معائنے میں شمولیت کی اجازت ہوگی۔ علاج کے اخراجات بانی پی ٹی آئی یا ان کے اہلخانہ برداشت کریں گے۔تحریری حکم کے مطابق جیل حکام اور حکومت کو ہدایت کی گئی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری سے اب تک کا تمام طبی ریکارڈ، ٹیسٹ رپورٹس اور ڈاکٹروں کی آراء عدالت میں پیش کی جائیں۔ اس کے علاوہ گزشتہ تین ماہ میں اہلخانہ و وکلا سے ملاقاتوں اور تمام زیر التوا و سجاشدہ کیسز کی مکمل تفصیلات بھی طلب کر لی گئی ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ قیدی ہونا کسی شخص کو انسانی سلوک اور طبی سہولیات سے محروم نہیں کرتا، اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ زیر حراست شخص کی صحت اور وقار کا تحفظ یقینی بنائے۔عدالت نے بانی پی ٹی آئی کو اہلخانہ سے ہفتے میں ایک بار ملاقات اور بیٹوں سے ہفتے میں دو مرتبہ ٹیلی فون پر بات کرنے کی سہولت فراہم کرنے کا حکم دیا ہے، جبکہ اسپتال میں قیام کے دوران سیکیورٹی کے سخت انتظامات کی ہدایت کی ہے۔ ساتھ ہی عدالت نے یہ واضح پابندی عائد کی ہے کہ بانی کے اہلخانہ، وکلا یا سیاسی جماعت ان کی صحت کی صورتحال اور طبی رپورٹس کو میڈیا یا عوام سے شیئر نہیں کریں گے اور نہ ہی اسے سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ خلاف ورزی کی صورت میں فراہم کردہ سہولیات واپس لے لی جائیں گی اور کسی بھی عوامی اجتماع کی اجازت نہیں ہوگی۔