امریکا میں کیے گئے ایک نئے سروے کے مطابق ملک میں نصف سے زائد شہریوں کی رائے سپریم کورٹ کے بارے میں منفی ہے، جبکہ تقریباً 46 فیصد افراد کا خیال ہے کہ عدالت کے فیصلے قانون سے زیادہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں اور سیاسی نظریات سے متاثر ہوتے ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ کے سروے میں بتایا گیا کہ حالیہ عرصے میں سپریم کورٹ کی عوامی مقبولیت کم ترین سطحوں میں شامل ہے، جس سے یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ عدالت کے فیصلے سیاسی اثرات کے تحت کیے جا رہے ہیں۔سروے کے مطابق 67 فیصد ریپبلکن ووٹرز سپریم کورٹ کی کارکردگی سے مطمئن ہیں، جبکہ 75 فیصد ڈیموکریٹس نے عدالت کے بارے میں منفی رائے کا اظہار کیا۔مزید برآں، 46 فیصد شرکاء نے کہا کہ ججز اپنے فیصلے سیاسی نظریات کی بنیاد پر کرتے ہیں، جن میں سے 66 فیصد کا ماننا ہے کہ یہ فیصلے زیادہ تر ٹرمپ انتظامیہ کے مؤقف سے ہم آہنگ ہوتے ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ نتائج گزشتہ برسوں کے سرویز سے مطابقت رکھتے ہیں، جن میں سپریم کورٹ پر عوامی اعتماد میں مسلسل کمی اور فیصلوں کو سیاسی رنگ دینے کے تاثر میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔