vosa.tv
Voice of South Asia!

شی جن پنگ کی ٹرمپ کو سخت وارننگ، تائیوان پر بڑا پیغام دے دیا

0

بیجنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی اہم ملاقات تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہی، جس کے بعد دونوں رہنماؤں نے 600 سال قدیم تاریخی مقام “ٹیمپل آف ہیون” کا دورہ بھی کیا۔ اس دوران چین نے تائیوان کے معاملے پر امریکا کو واضح اور سخت پیغام دیتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ مسئلہ دونوں ممالک کے تعلقات میں سب سے حساس معاملہ ہے۔

چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ کے مطابق صدر شی جن پنگ نے صدر ٹرمپ پر واضح کیا کہ اگر تائیوان کے معاملے کو درست انداز میں نہ سنبھالا گیا تو یہ دونوں طاقتوں کے درمیان خطرناک تصادم کا سبب بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “تائیوان کی آزادی اور آبنائے تائیوان میں امن ایک ساتھ ممکن نہیں، یہ آگ اور پانی کی مانند ہیں۔”امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملاقات کے بعد مختصر گفتگو میں مذاکرات کو “بہترین” قرار دیا، تاہم انہوں نے تائیوان سے متعلق سوالات کا براہِ راست جواب دینے سے گریز کیا۔ چینی حکام کے مطابق ملاقات میں مشرق وسطیٰ، یوکرین جنگ، جزیرہ نما کوریا اور عالمی سلامتی سمیت اہم بین الاقوامی معاملات پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور عالمی تیل بحران کے باعث ٹرمپ اس وقت دباؤ میں دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ چین نایاب معدنیات اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبے میں اپنی برتری کے باعث زیادہ مضبوط پوزیشن میں نظر آ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق چین امریکا سے محصولات میں نرمی، پابندیوں کے خاتمے اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی چاہتا ہے۔رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ اس دورے میں ایپل، بلیک راک اور ٹیسلا جیسی بڑی امریکی کمپنیوں کے نمائندے بھی ساتھ لائے تاکہ اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع حاصل کیے جا سکیں۔ تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ ملاقاتوں کے باوجود امریکا اور چین کے درمیان طویل المدتی کشیدگی اور اسٹریٹیجک مقابلہ بدستور برقرار رہے گا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.