امریکا میں ہوپ کا پہلا کینسر سمٹ کامیاب، ماہرین کی عالمی شرکت
امریکا میں کینسر کی تشخیص اور علاج کی بہتری کے لیے پاکستانی نژاد ڈاکٹروں کی قائم کردہ غیر منافع بخش تنظیم ہوپ کا پہلا دو روزہ سمٹ اختتام پذیر ہوگیا۔سمٹ میں طبی ماہرین، محققین اورنمایاں شخصیات میں ایوارڈز تقسیم کیے گئے جبکہ معروف قوال ارسلان ربانی کی شاندار پرفارمنس نے حاضرین کے دل موہ لئے۔
امریکا میں میں مقیم پاکستانی نژاد ڈاکٹر موذی مرض کینسر کی تشخیص اور بہتر علاج کی فراہمی کے لیے پیش پیش ہیں ۔سرطان کی پیچیدگیوں پر تحقیقی کاوشوں کے سلسلے میں ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں غیر منافع بخش تنظیم ہیمیٹولوجی اینڈ آنکولوجی فزیشنز پروموٹنگ ایکسیلنس نے اپنی پہلی دو روزہ افتتاحی سمٹ کا انعقاد کیا۔۔اس حوالے سے منعقدہ پریس کانفرنس میں ہوپ کی ایگزیکٹو کمیٹی کے بانی و پریزیڈنٹ ڈاکٹر خرم طارق، وائس پریزیڈنٹ ڈاکٹر عامر احسان نے اپنی تنظیم کے اغراض و مقاصد سے اگاہ کیا۔سمٹ میں شرکت کے لیے امریکہ، برطانیہ اور دیگر ممالک سے ہیمیٹولوجی، میڈیکل آنکولوجی، ریڈیشن آنکولوجی، پیتھالوجی، سرجیکل آنکولوجی، پیلی ایٹو کیئر (تسکینی نگہداشت)، کلینیکل ٹرائلز اور کینسر کے علاج سے وابستہ دیگر ذیلی شعبوں کے ماہرین اور فعال شخصیات نے شرکت کی۔اس موقع پر ہوپ کی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر کرن نقوی، اسٹرجیٹک پارٹنر ڈاکٹرحسن کلیم اور ڈاکٹر سمیرہ شفیع نےمزید بتایا کہ پاکستانی نژاد امریکی ڈاکٹروں کی قائم کردہ طبی ماہرین، معالجین اور محققین پر مشتمل تنظیم کا مقصد ایک ایسا عالمی پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے جو سرحدوں سے بالاتر ہو کر ڈاکٹروں کو آپس میں جوڑے اور مریضوں کے علاج کے نتائج میں بہتری لائے۔سمٹ میں عالمی سطح پر تسلیم شدہ ماہرین کے ساتھ ساتھ ابھرتے ہوئے رہنماؤں، فیلوز، ریذیڈنٹس اور زیرِ تربیت ڈاکٹروں کو بھی شامل کیا گیا، جس سے باہمی تعاون، رہنمائی اور علمی تبادلے کے لیے ایک بہترین ماحول میسر آیا۔سمٹ میں شرکاء کے اہل خانہ کو بھی مدعو کیا گیاتاکہ طب اور انسانیت کی خدمت کے شعبے میں رہنماؤں کی اگلی نسل کی حوصلہ افزائی اور تربیت کی جاسکے ۔تقریب میں نارتھ کیرولائنا سے تعلق رکھنے والی بریسٹ سرجن ڈاکٹر این کورین بیوورکی خصوصی شرکت تھی جنھوں نے ہمت اور حوصلے سے کینسر کے موزی مرض کو شکستدی۔ ۔ انھوں نے بطور ڈاکٹر بریسٹ کینسر کے خلاف اپنے ذاتی سفر اور کیموتھراپی کے چیلنجز اور اس کے زہریلے اثرات سے نمٹنے کے تجربات شیئر کیے۔ کانفرنس میں ریاست ٹیکساس کے ڈسٹرکٹ 92 سے مسلسل دوسری بات منتخب ہونے والے پہلے پاکستانی نژاد کانگریس مین سلمان بھوجانی،ڈاکٹر سلیمان لالانی ،میرلینڈ اسٹیٹ اسمبلی کے ممبر ڈاکٹر حسن جلیسی٫ پاکستانی امریکن ڈاکٹرز کی تنظیم اپنا کے سابقہ سیکرٹری جنرل ڈاکٹر ثنا اللہ٫ ہیوسٹن کے ڈاکٹر محمد یعقوب شیخ کے علاوہ میڈیکل شعبے سے تعلق رکھنے والے دیگر خواتین و حضرات نے شرکت کی۔مقررین نے ہوپ کو یقین دہانی کرائی کہ انھیں ہر ممکنہ تعاون حاصل رہے گا۔سمٹ کے دوران ڈاکٹر خرم طارق نے نئی ایگزیکٹو کمیٹی، بورڈ آف ڈائریکٹرز اور سائنٹیفک ایڈوائزری بورڈ کا تعارف بھی کرایا۔ان کا کہنا تھا کہ ہوپ کا یہ پہلا سمٹ ہیمیٹولوجی، آنکولوجی اور متعلقہ شعبوں کے ماہرین کو اکٹھا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ہم ایک ایسا نیٹ ورک بنانا چاہتے ہیں جہاں مریضوں کے لیے کینسر کے علاج کا معیار بلند ہو۔پروگرام میں تعلیمی سیشنز،سی ایم ای ماہرین کی زیرِ قیادت مباحثے اور نیٹ ورکنگ کے مواقع فراہم کیے گئے تاکہ پیشہ ورانہ ترقی کے تمام مراحل میں جدت اور مشترکہ مقصد کو فروغ دیا جا سکے۔مقررین کا کہنا تھا کہ ہوپ اپنے اس کامیاب سمٹ کے تسلسل کو مستقبل کے اجلاس، تحقیقی اقدامات، تربیتی پروگرامز، رہنمائی، فلاحی کوششوں اور جنوبی ایشیا میں قائم کینسر اسپتالوں کے ساتھ تعاون کو مزید توسیع دینے کے لیے کوشاں ر ہیں گے۔یونیورسٹی آف ٹیکساس ایم ڈی اینڈرسن کینسر سینٹر میں، مائیلوما ٹرانسپلانٹیشن اور سیلولر تھراپی کے پروفیسر اور ڈائریکٹر، ڈاکٹر مظفر قزلباش نے دنیا کے معروف کینسر سینٹرز میں دہائیوں پر محیط اپنے تجربے، قیادت اور خدمات کی روشنی میں تحقیق، مریضوں کی دیکھ بھال اور آنکولوجی کے مستقبل کے بارے میں بصیرت انگیز گفتگو کی۔دو روزہ کانفرنس کی مختلف پروگرامز میں کی نوٹ سپیکرز پریزنٹیشن، کینسر سے متعلق ریسرچ کرنے والے ڈاکٹر وں کے تعلیمی لیکچر ز اور کانفرنس کے سپانسرز کے درمیان اوارڈ تقسیم کیے گئے۔تقریب کے اخر میں امریکہ میں ابھرتے ہوئے پاکستانی نزاد امریک میں مقیم قوال ارسلان ربانی نے اپنی شاندار پرفارمنس کے ذریعے حاضرین کے دل موہ لئے۔دوسرے روز کی تمام تقریبات ٹیمپورہ مر کوئی رینج پر منعقد کی گئیں جس میں فیملیر کے لیے مختلف تفریحی پروگرام بھی رکھیے گئے تھے۔ منتظمین نے تمام سپانسرز، فارماسیوٹیکل پارٹنرز،مقررین اور میڈیا پارٹنرز سے اس تقریب کو پر اثر بنانے پر اظہارِ تشکر کیا۔