امریکا میں میں وفاقی جج نے گردیو سنگھ سوہل نامی شخص کی شہریت منسوخ کر دی، جو جعلی شناخت اور امیگریشن فراڈ کے ذریعے حاصل کی گئی تھی۔
حکام کے مطابق ملزم نے 2005 میں امریکی شہریت حاصل کی، حالانکہ اسے 1994 میں ملک بدر کیے جانے کا حکم دیا جا چکا تھا۔عدالتی دستاویزات کے مطابق ملزم نے “دیپ سنگھ” کے نام سے ملک بدری کے حکم کے بعد امریکا چھوڑنے کے بجائے نئی جعلی شناخت اختیار کی، جس میں نام، تاریخ پیدائش اور امریکا آمد کی تفصیلات بھی تبدیل کی گئیں۔ بعد ازاں اسی جعلی شناخت کے تحت شہریت حاصل کر لی گئی، جبکہ اس نے اپنی پرانی امیگریشن ہسٹری مکمل طور پر چھپائے رکھی۔امریکی محکمہ انصاف کے مطابق جدید فنگر پرنٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے دونوں شناختوں کا تعلق ایک ہی شخص سے ثابت ہوا۔ فروری 2020 میں ہونے والی اس تصدیق کے بعد کیس میں اہم پیش رفت ہوئی اور عدالت نے قرار دیا کہ ملزم نے دھوکہ دہی کے ذریعے شہریت حاصل کی، جو قانوناً ناجائز ہے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ شناخت چھپانے جیسے اقدامات کی وجہ سے ملزم قانونی طور پر “اچھے کردار” کی شرط پوری نہیں کرتا تھا، جو شہریت کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ امیگریشن فراڈ کے خلاف سخت کارروائی کی واضح مثال ہے۔