امریکا کے شہر نیویارک میں اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی اور جاری جنگ کے خلاف احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کرگئے، جہاں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 100 سے زائد مظاہرین کو گرفتار کرلیا۔
مظاہرین نے امریکی پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ جنگی اقدامات کی حمایت فوری طور پر بند کی جائے۔رپورٹس کے مطابق مظاہرین نے امریکی سینیٹرز چک شومر اور کرسٹین کے دفاتر کے باہر دھرنا بھی دیا، جس کے باعث علاقے میں کشیدگی کی صورتحال پیدا ہوگئی۔پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے کارروائی کرتے ہوئے 100 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ جنگ اور اس میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی فراہمی کے خلاف اپنا احتجاج جاری رکھیں گے اور اس حوالے سے عالمی سطح پر آواز اٹھاتے رہیں گے۔