نیویارک کے میئر زوہران ممدانی نے سٹی وائیڈ ریشل ایکویٹی پلان اور “ٹرو کاسٹ آف لیونگ” رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ شہر کے 62 فیصد شہری بنیادی اخراجات پورے کرنے سے قاصر ہیں۔
رپورٹ کے مطابق تقریباً 50 لاکھ افراد اپنی اصل زندگی کے اخراجات برداشت نہیں کر پا رہے، جبکہ ایک خاندان کو معاشی طور پر مستحکم زندگی گزارنے کے لیے سالانہ تقریباً 1 لاکھ 59 ہزار ڈالر درکار ہیں۔ اس کے برعکس دستیاب وسائل اس سے کہیں کم ہیں، جس سے ہزاروں ڈالر کا فرق سامنے آتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ بحران خاص طور پر سیاہ فام اور لاطینی کمیونٹیز کو زیادہ متاثر کر رہا ہے، جہاں تاریخی ناانصافیوں، کم مواقع اور وسائل کی غیر مساوی تقسیم نے حالات کو مزید خراب کیا ہے۔ بچوں کی ایک بڑی تعداد بھی ایسے خاندانوں میں رہ رہی ہے جو اپنے اخراجات پورے نہیں کر پا رہے۔میئر ممدانی کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ شہر میں موجود معاشی اور نسلی عدم مساوات کو ختم کرنے کی جانب پہلا قدم ہے۔ حکام کے مطابق آئندہ 30 دنوں میں عوامی رائے لی جائے گی، جس کے بعد حتمی پالیسی ترتیب دی جائے گی تاکہ نیویارک کو زیادہ منصفانہ اور قابلِ رہائش شہر بنایا جا سکے۔