نیویارک سٹی میں موسمِ بہار کے آغاز کے ساتھ ہی آؤٹ ڈور ڈائننگ سیزن ایک بار پھر شروع ہو گیا ہے، جس کے تحت شہر بھر کی سڑکوں پر سینکڑوں عارضی ڈائننگ شیڈز دوبارہ نصب کیے جا رہے ہیں۔
ویسٹ ولیج سمیت مختلف علاقوں میں ریستوران مالکان اس سہولت کو بحال کر رہے ہیں تاکہ گاہکوں کو کھلی فضا میں کھانے کا موقع فراہم کیا جا سکے۔کچھ کاروباری افراد کے لیے یہ پروگرام اب بھی فائدہ مند ہے۔ ویسٹ ولیج کے ایک ریستوران کی مالک کے مطابق آؤٹ ڈور ڈائننگ سے ان کی نشستوں کی تعداد دگنی ہو جاتی ہے، جس سے آمدنی میں واضح اضافہ ہوتا ہے اور کاروبار کو سہارا ملتا ہے، خاص طور پر مہنگائی اور درآمدی اخراجات جیسے مسائل کے دوران۔تاہم کئی ریستوران مالکان اب اس پروگرام سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ اپر ویسٹ سائیڈ کے ایک مالک کا کہنا ہے کہ لائسنس فیس، اسٹوریج اخراجات اور سخت سرکاری قواعد نے اس عمل کو مہنگا اور پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ان کے مطابق شہر کی نئی پابندیوں کے تحت شیڈز کی جگہ محدود کر دی گئی ہے، جو ریستوران سے کافی دور ہوتی ہے، جس سے گاہکوں کو بھی دشواری ہوتی ہے۔شہری حکام بھی تسلیم کرتے ہیں کہ نئے قوانین کی وجہ سے اس پروگرام میں کمی آئی ہے، کیونکہ منظوری کے عمل میں کمیونٹی بورڈ، سٹی کونسل اور محکمہ ٹرانسپورٹیشن کی متعدد سطحوں پر اجازت درکار ہوتی ہے، جو کئی ماہ تک طول پکڑ سکتی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اس پروگرام کو سال بھر جاری رکھنے اور طریقہ کار کو آسان بنانے کی ضرورت ہے۔