امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی مذاکرات کے باوجود خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور تہران نے خبردار کیا ہے کہ اگر سفارت کاری ناکام ہوئی تو آئندہ تصادم ماضی کی نسبت کہیں زیادہ وسیع اور تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان ایک عبوری معاہدے پر پیش رفت ہوئی ہے، تاہم حتمی منظوری ابھی باقی ہے جبکہ میدانِ عمل میں تناؤ کم نہیں ہوا۔رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں امریکا نے ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائیاں کیں جبکہ آبنائے ہرمز میں بھی دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی دیکھی گئی۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو ان کے پاس ایسے عسکری اور تزویراتی آپشنز موجود ہیں جو خطے سے باہر بھی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی نئے تنازع کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ مخالفین کو دور دراز مقامات پر بھی شدید نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی عندیہ دیا ہے کہ مستقبل کی کسی بھی جوابی کارروائی میں نئے اور غیر متوقع حربے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق ایران روایتی جنگ میں امریکا اور اسرائیل کا براہِ راست مقابلہ کرنے کے بجائے عالمی توانائی کی سپلائی اور تجارتی راستوں کو متاثر کرنے کی حکمت عملی اختیار کر سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز کے ساتھ باب المندب میں کشیدگی پیدا ہونے کی صورت میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ اور مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تنازع مزید بڑھا تو خلیجی ممالک کی توانائی تنصیبات، اہم انفراسٹرکچر اور حتیٰ کہ یورپ میں موجود بعض امریکی تنصیبات بھی ممکنہ خطرات کی زد میں آ سکتی ہیں۔ بعض ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت سے لیس ڈرونز، جدید کروز میزائلوں اور الیکٹرانک جنگی ٹیکنالوجی کے استعمال سے خطے کی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔