vosa.tv
Voice of South Asia!

غیر قانونی ایچ آئی وی ادویات فروخت کرنے والے کمپنی مالکان کو قید

0

امریکا میں بلیک مارکیٹ سے حاصل کی گئی ایچ آئی وی ادویات فروخت کرنے کے بڑے اسکینڈل میں ملوث ایک فارماسیوٹیکل ہول سیل کمپنی کے دو مالکان کو مجموعی طور پر 38 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
حکام کے مطابق اس اسکیم کے ذریعے مریضوں کی صحت کو شدید خطرے میں ڈالا گیا اور ادویات کی سپلائی چین کو متاثر کیا گیا۔عدالتی دستاویزات کے مطابق میری لینڈ کے رہائشی بھائی پیٹرک بوئڈ اور چارلس بوئڈ نے اپنی کمپنی سیف چین سلوشنز کے ذریعے بلیک مارکیٹ سپلائرز سے کم قیمت پر ایچ آئی وی ادویات خرید کر انہیں جعلی دستاویزات کے ساتھ فارمیسیوں کو فروخت کیا۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ یہ ادویات بعض اوقات گندی یا کھلی بوتلوں میں بھیجی جاتی تھیں اور کئی بار ان بوتلوں میں اصل دوا کے بجائے دوسری ادویات موجود ہوتی تھیں۔مقدمے کے دوران ایک مریض نے گواہی دی کہ اسے دی جانے والی ایچ آئی وی دوا کی بوتل میں دراصل ایک اینٹی سائیکوٹک دوا موجود تھی جسے استعمال کرنے کے بعد وہ تقریباً چوبیس گھنٹے تک بے ہوش رہا۔ ماہرین کے مطابق ایچ آئی وی کے مریض اگر اپنی دوا کی ایک خوراک بھی چھوڑ دیں تو وائرس کی شدت بڑھنے اور دوسروں تک منتقل ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔عدالت نے پیٹرک بوئڈ کو 18 سال اور کمپنی کے چیف ایگزیکٹو چارلس بوئڈ کو 20 سال قید کی سزا سنائی جبکہ دونوں کو تقریباً 2 کروڑ 18 لاکھ ڈالر ضبطی کی ادائیگی کا حکم بھی دیا گیا۔ حکام کے مطابق ملزمان نے 2020 سے 2021 کے دوران بلیک مارکیٹ سے 92 ملین ڈالر سے زائد مالیت کی تقریباً 28 ہزار بوتلیں خرید کر فارمیسیوں کو فروخت کیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.