vosa.tv
Voice of South Asia!

امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران کا سخت ردعمل، ’آنکھ کے بدلے آنکھ‘ کا اعلان

0

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے گیارہویں روز امریکا اور اسرائیل نے ایران پر شدید فضائی حملے کیے جس کے بعد ایران نے سخت ردعمل دیتے ہوئے میزائل حملے تیز کر دیے ہیں۔ عرب میڈیا کے مطابق تہران کے مشرقی، مغربی اور جنوبی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا اور اسے اب تک کا بڑا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ایران کے پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران پر ہونے والے ہر حملے کا فوری اور متناسب جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران اب ’آنکھ کے بدلے آنکھ‘ کے اصول پر عمل کر رہا ہے اور اگر دشمن بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے گا تو ایران بھی اسی نوعیت کا جواب دے گا۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات فی الحال ایجنڈے میں شامل نہیں ہیں اور ایران ضرورت پڑنے تک میزائل حملے جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں امریکا کے ساتھ مذاکرات کا تجربہ ایران کے لیے تلخ رہا ہے۔ایران کی پاسداران انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی اہداف کے خلاف حملوں کی پینتیسویں لہر شروع کر دی گئی ہے جس میں خیبر شکن، فتح، عماد، خرمشہر اور قدس میزائل داغے گئے۔ ایرانی حکام کے مطابق ان حملوں میں تل ابیب، بیت شمش، مقبوضہ بیت المقدس اور امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔اسرائیلی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ایک سو اکیانوے افراد زخمی ہوئے جبکہ جنگ کے آغاز سے اب تک دو ہزار سے زائد افراد کو اسپتال منتقل کیا جا چکا ہے۔ ادھر ایران نے آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکی بھی دی ہے اور کہا ہے کہ حملہ آور ممالک سے وابستہ جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ایرانی حکام کے مطابق حالیہ حملوں میں رسالت اسکوائر کے قریب ایک حملے میں چالیس افراد جاں بحق ہوئے جبکہ مجموعی طور پر شہدا کی تعداد تیرہ سو سے تجاوز کر چکی ہے اور بارہ ہزار سے زائد زخمی مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔جنگ کے اثرات خطے کے دیگر ممالک تک بھی پھیل رہے ہیں۔ عراق کے شہر اربیل میں متحدہ عرب امارات کے قونصل خانے پر ڈرون حملہ کیا گیا جبکہ بحرین اور ابوظبی میں بھی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ قطر اور بحرین کی افواج نے متعدد میزائل اور ڈرون فضا میں ہی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.