نیویارک: پرائمری الیکشن کے لیے ڈیموکریٹک اُمید وار آدم اعظم اسٹیٹ سینیٹر کی دوڑ سے باہر
نیویارک میں پرائمری الیکشن کے لیے ڈیموکریٹک اُمید وار آدم اعظم اسٹیٹ سینیٹر کی دوڑ سے باہر ہوگئے ہیں ۔ نیویارک سٹی کے بورڈ آف الیکشن نے ان کا نام انتخابی فہرست سے خارج کردیا ہے ۔
نیویارک میں پاکستانی کمیونٹی سے محمد آدم اعظم ایک بار پھر اسٹیٹ سینیٹر کا انتخاب لڑنے انتخابی میدان میں آئے لیکن قانونی تقاضے پورے نہ کرپائے اور یوں ان کی انتخابی پٹیشن مسترد ہوگئی۔ معاملہ بورڈ آف الیکشنز پہنچا تو قسمت کی دیوی وہاں بھی مہر بان نہ ہوئی ۔آدم اعظم اور ان کےحریف کی طرف سے موجود وکیل نے دستخطوں کے مستند اور غیر مستند ہونے پر دلائل دیے ۔ تاہم بورڈ آف الیکشن نے اعتراضات اور دلائل سننے کے بعد آدم اعظم کا نام انتخابی فہرست سے خارج کردیا۔واضح رہے کہ آدم اعظم 2024 میں بھی اسٹیٹ سینیٹر کے امید وار کے طور پر سامنے آئے تھے لیکن کامیابی ان کا مقدر نہ بن سکی۔اس بار انھوں نے ڈسٹرکٹ 11 سے ڈیموکریٹک پرائمری کے لیے 3ہزار 895 ووٹرز کے دستخط جمع کرائے لیکن ان میں سے 3ہزار150دستخط مسترد ہوگئے اور 1ہزارووٹرز کے مستند دستخط کا مطلوبہ قانونی تقاضہ پورا ہونے سے رہ گیا۔آدم اعظم نے ڈیموکریٹک پرائمری میں اسٹیٹ سینیٹر کی دوڑ سے باہر ہونے کے بعد اب آزاد حیثیت میں انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ قانون کے مطابق انھیں بطورآزاد اُمیدوار اب 3 ہزا ر رجسٹرڈ ووٹرز کے مستند دستخط درکار ہوں گے جو ایک بڑے چیلنج سے کم نہ ہوگا۔