vosa.tv
Voice of South Asia!

پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر جھڑپیں، افغان طالبان کے 67 کارندے ہلاک

0

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے بلوچستان میں کیے گئے حملوں کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق طالبان نے شمالی بلوچستان میں 16 مختلف مقامات پر حملوں کی کوشش کی، تاہم سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے انہیں پسپا کر دیا۔

وزیر اطلاعات نے منگل کو سماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے قلعہ سیف اللہ، نوشکی اور چمن میں ہونے والے حملوں کو ناکام بنایا۔ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں جھڑپوں کے دوران 27 افغان طالبان ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، جبکہ ایف سی بلوچستان کا ایک جوان شہید اور پانچ اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ خیبرپختونخوا میں بھی زمینی حملے کی کوشش کو ناکام بنایا گیا جہاں 40 افغان طالبان ہلاک ہوئے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ان کارروائیوں کو آپریشن غضب للحق کا نام دیا گیا ہے اور یہ آپریشن اہداف کے حصول تک جاری رہے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ افواج پاکستان کی زمینی اور فضائی کارروائیاں مؤثر انداز میں جاری ہیں۔سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ افغان صوبے ننگرہار میں ایک کامیاب فضائی کارروائی کے دوران خوگانی بیس کو تباہ کر دیا گیا۔ اسی طرح جلال آباد میں ایمونیشن ڈپو اور ڈرونز کے ذخیرہ کرنے کی جگہ کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق ان کارروائیوں میں افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ادھر ملک کے مختلف شہروں میں کومبنگ آپریشنز بھی جاری ہیں۔ اسلام آباد، مری، چکوال، جہلم اور اٹک میں غیر قانونی مقیم افغان شہریوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا۔پولیس اور انتظامیہ کے مطابق مجموعی طور پر 85 افراد کو حراست میں لیا گیا جن میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندے بھی شامل ہیں۔اسلام آباد کے تھانہ ہمک کے علاقے سے 9 افراد کو زیر حراست لیا گیا، مری اور کوٹلی ستیاں سے دو غیر قانونی افغان شہریوں سمیت تین افراد گرفتار کیے گئے۔ جہلم میں 171 گھروں کی تلاشی کے دوران 57 غیر قانونی افغان باشندوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ چکوال سے 13 افغان باشندے اور دو اشتہاری ملزمان گرفتار ہوئے۔اٹک سے بھی ایک غیر قانونی افغان شہری کو گرفتار کیا گیا۔ حکام کے مطابق کارروائیوں کے دوران غیر قانونی اسلحہ اور منشیات بھی برآمد کی گئیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.