پاکستان اور افغان طالبان کے تعلقات جو کبھی قریبی اور اسٹریٹجک شراکت داری پر مبنی تھے، حالیہ مہینوں میں شدید کشیدگی اور عسکری تصادم میں بدل گئے ہیں۔ تازہ سرحدی جھڑپوں اور فضائی کارروائیوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق جمعہ کو پاکستان نے افغانستان کے سرحدی علاقوں میں فضائی اور زمینی کارروائیاں کیں، جن میں طالبان کے فوجی مراکز، ہیڈکوارٹرز اور اسلحہ ڈپو نشانہ بنائے گئے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملے افغانستان کی جانب سے سرحدی فورسز پر حملوں کے بعد کیے گئے۔ دونوں طرف سے بھاری جانی نقصان کے دعوے کیے گئے، اور پاکستان کے وزیر دفاع نے صورتحال کو ’کھلی جنگ‘ قرار دیا۔کشیدگی کے اسباب میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی افغانستان میں موجودگی، بلوچستان کے علیحدگی پسند گروہوں کی پناہ گاہیں، اور سرحدی جھڑپوں کے دوران ہونے والے جانی نقصان شامل ہیں۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ ٹی ٹی پی افغانستان میں محفوظ ہے اور وہاں سے پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، جبکہ کابل حکومت اس الزام کی تردید کرتی ہے اور پاکستان پر ان کے مخالف گروہوں کو پناہ دینے کا الزام لگاتی ہے۔ٹی ٹی پی 2007 میں شمال مغربی پاکستان میں مختلف شدت پسند گروہوں کے اتحاد سے بنی، اور ماضی میں افغان طالبان کے ساتھ مل کر امریکہ کی قیادت میں قائم افواج کے خلاف لڑتی رہی۔ حالیہ برسوں میں اس گروہ کے حملوں میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس میں بازاروں، فوجی اڈوں اور پولیس مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ کشیدگی برقرار رہنے کی صورت میں پاکستان اپنی فوجی کارروائیوں کو بڑھا سکتا ہے، جبکہ افغان طالبان گوریلا طرز کی سرحدی حملوں میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ اس صورتحال نے خطے میں غیر یقینی کو بڑھا دیا ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات ایک خطرناک اور نازک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔