vosa.tv
Voice of South Asia!

غزہ بورڈ آف پیس میں پاکستان اور بھارت کو شمولیت کی دعوت، دفتر خارجہ کی تصدیق

0

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں امن اور تعمیر نو کے لیے قائم کیے گئے بین الاقوامی ’بورڈ آف پیس‘ کی سربراہی کرتے ہوئے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کو اس ادارے میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔ اس پیش رفت کو واشنگٹن کی جانب سے غزہ کے مستقبل کے انتظام اور امن عمل میں عالمی قیادت کو شامل کرنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ایک مختصر بیان میں امریکی صدر کی جانب سے بورڈ آف پیس آن غزہ میں شمولیت کی دعوت موصول ہونے کی تصدیق کی ہےطاہر اندرابی کے مطابق پاکستان غزہ میں امن و سلامتی کے لیے بین الاقوامی کوششوں کی حمایت کے لیے پُرعزم ہے اور فلسطین کے مسئلے کے پائیدار حل کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔دوسری جانب امریکا کے بھارت میں ایلچی سرجیو گور نے بھی اتوار کو کہا کہ ٹرمپ کی جانب سے نریندر مودی کو اس بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت پہنچا دی گئی ہے۔ان کے مطابق یہ بورڈ غزہ میں دیرپا امن لانے اور مؤثر حکمرانی کے ذریعے استحکام اور خوشحالی کے حصول میں مدد دے گا،نئی دہلی کی جانب سے اس بیان پر فوری طور پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔بورڈ آف پیس، ٹرمپ کے اس 20 نکاتی منصوبے کا حصہ ہے، جس کا مقصد اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کا مستقل خاتمہ، غزہ کی تعمیر نو، عالمی وسائل کو متحرک کرنا اور جنگ سے امن کی طرف منتقلی کے دوران شفاف نگرانی کو یقینی بنانا ہے۔اسی منصوبے کے تحت امریکا نے ’نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ‘ بھی قائم کی ہے، جو مرحلہ دوم پر عملدرآمد کرے گی، جبکہ ایک ’فاؤنڈر ایگزیکٹو بورڈ‘ اور ’غزہ ایگزیکٹو بورڈ‘ بھی تشکیل دیے گئے ہیں۔امریکا نے ہفتے کے روز غزہ ایگزیکٹو بورڈ کے ابتدائی ارکان کے ناموں کا اعلان کیا، جن میں ترکیہ کے وزیر خارجہ، قطر کے ایک اعلیٰ عہدیدار، برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر شامل ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے غزہ ایگزیکٹو بورڈ پر اپنے اعلیٰ مشیروں کا اجلاس بلا لیا، اسرائیل کا کہنا ہے کہ بورڈ کے ایک ذیلی ادارے کی تشکیل میں اس سے مشاورت نہیں کی گئی جواسرائیل کی پالیسی کے خلاف ہے۔ اس وقت غزہ ایگزیکٹو بورڈ میں واحد اسرائیلی رکن یاکیر گابے ہیں جو کہ ایک کاروباری شخصیت ہیں، جبکہ دونوں بورڈز میں کوئی فلسطینی نمائندہ شامل نہیں ہے۔وائٹ ہاؤس کے مطابق مرکزی بورڈ آف پیس عالمی رہنماؤں پر مشتمل ہوگا اور اس کی صدارت خود صدر ٹرمپ کریں گے۔اب تک صرف ہنگری کے وزیراعظم وکٹر اوربان نے اس کردار کو قبول کرنے کی تصدیق کی ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.