نیویارک(نیوزڈیسک)کینسر، معذوری اور سنگین ذہنی بیماریوں میں مبتلا نیویارکرز کے لیے بڑی خوشخبری، عدالت نے میڈیکیڈ ہیلتھ کوریج محدود کرنے کی حکومتی کوشش روک دی۔
نیویارک اٹارنی جنرل آفس کے مطابق امریکی ریاست نیویارک میں سنگین طبی مسائل سے دوچار افراد کو علاج کی سہولت برقرار رکھنے کے لیے اب اپنی بیماری کی شدت ثابت کرنے کے لیے اضافی دفتری مراحل سے نہیں گزرنا پڑے گا۔ عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کے نئے ضابطے کی اہم شق کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔
نیویارک کی اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز نے اعلان کیا ہے کہ عدالت نے میڈیکیڈ کوریج سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کے سخت ضابطے کے خلاف اہم فیصلہ سنایا ہے، جس سے سنگین بیماریوں اور معذوری کا شکار شہریوں کی ہیلتھ کوریج محفوظ رہے گی۔اس ضابطے کے تحت بعض ایسے افراد کو، جنہیں طبی طور پر زیادہ کمزور یا شدید بیمار قرار دیا گیا تھا، میڈیکیڈ کی سہولت برقرار رکھنے کے لیے اپنی بیماری کی شدت ثابت کرنے اور اضافی انتظامی مراحل مکمل کرنے کی شرط کا سامنا تھا۔
لیٹیشیا جیمز اور 24 دیگر ریاستوں سمیت ڈسٹرکٹ آف کولمبیا نے جون 2026 میں اس ضابطے کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔میساچوسٹس کی وفاقی ضلعی عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے طبی کمزوری کی نئی اور زیادہ سخت تعریف کی ایک بنیادی شق کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ اس فیصلے سے نیویارک کے ایسے شہریوں کے لیے میڈیکیڈ کی اہلیت برقرار رکھنے میں مدد ملے گی جو کینسر، معذوری، سنگین ذہنی بیماری یا نشے کی لت جیسے مسائل کا سامنا کررہے ہیں۔