نیویارک(نیوزڈیسک)امریکا میں اعضا کی پیوندکاری کے نظام میں بڑی تبدیلی آگئی ہے، جہاں ایک لاکھ سے زائد مریض زندگی بچانے والے اعضا کے منتظر ہیں۔ حکومت نے عطیہ شدہ اعضا کے ضیاع کو روکنے اور زیادہ سے زیادہ مریضوں تک پہنچانے کے لیے نئے ضابطے متعارف کرادیے ہیں۔
امریکی محکمہ صحت و انسانی خدمات کے مطابق امریکا میں ہزاروں نہیں بلکہ ایک لاکھ سے زائد افراد ایسے ہیں جن کی زندگیاں اعضا کی پیوندکاری سے بچائی جا سکتی ہیں، لیکن انہیں عطیہ شدہ اعضا کا انتظار ہے۔ ایسے میں امریکی حکومت نے ٹرانسپلانٹ کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں۔
امریکی محکمہ صحت و انسانی خدمات کے مطابق اعضا کی پیوندکاری کے نظام میں بہتری اور عطیہ شدہ اعضا کے ضیاع کی روک تھام کے لیے نیا ضابطہ حتمی کردیا گیا ہے۔نئے ضابطے کے تحت اعضا حاصل کرنے والے اداروں، یعنی آرگن پروکیورمنٹ آرگنائزیشنز کی نگرانی سخت کی جائے گی اور ان کی کارکردگی کا باقاعدہ احتساب ہوگا۔یہ ادارے عطیہ دہندگان کے اہلِ خانہ سے اجازت حاصل کرنے، اعضا وصول کرنے اور انہیں محفوظ طریقے سے ٹرانسپلانٹ مراکز تک پہنچانے کی ذمہ داری انجام دیتے ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق 2025 میں ملک بھر میں 49 ہزار سے زائد اعضا کی پیوندکاریاں کی گئیں، تاہم ایک لاکھ سے زیادہ افراد اب بھی ٹرانسپلانٹ کے منتظر ہیں۔نئے قوانین کے تحت بہتر کارکردگی دکھانے والے اداروں کو ایک سے زیادہ علاقوں میں خدمات انجام دینے کا موقع مل سکے گا، جبکہ غیر محفوظ طبی طریقہ کار یا سنگین خلاف ورزیوں کی صورت میں متعلقہ اداروں کی منظوری منسوخ کرنے کا اختیار بھی واضح کردیا گیا ہے۔اس کے علاوہ تحقیق کے لیے استعمال ہونے والے عطیہ شدہ اعضا کا مکمل ریکارڈ رکھنا لازمی ہوگا۔ طبی غلطیوں کی نشاندہی، تحقیقات اور مستقبل میں ان کی روک تھام کے لیے بھی واضح رہنما اصول مقرر کیے گئے ہیں۔
امریکی محکمہ صحت کے مطابق 2020 میں متعارف کرائی گئی اصلاحات کے بعد ملک میں اعضا کے عطیات میں 36 فیصد جبکہ ٹرانسپلانٹس کی تعداد میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔حکام کو امید ہے کہ نئے ضابطے سے اعضا کے حصول اور تقسیم کا نظام مزید شفاف اور مؤثر ہوگا، تاکہ عطیہ کیے گئے زیادہ سے زیادہ اعضا ضرورت مند مریضوں تک پہنچ سکیں اور قیمتی انسانی جانیں بچائی جاسکیں۔