ہاتھی بھی انسانوں کی طرح ایک دوسرے کوناموں سےپکارتےہیں
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ہاتھی ایک دوسرے سے کیسے مخاطب ہوتے ہیں؟ اگر نہیں تو سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں اس کا جواب ڈھونڈ نکالا ہے۔
ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ہاتھی ایک دوسرے کو پکارنے کے لیے مخصوص نام استعمال کرتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے انسان ایک دوسرے کو نام لے کر مخاطب کرتے ہیں۔برطانوی اخبار کے مطابق ڈولفن اور طوطوں کو بھی اپنی نسل کے دوسرے جانوروں کی آوازوں کی نقل کرتے ہوئے ایک دوسرے کو مخاطب کرتے دیکھا گیا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ ہاتھی پہلے ایسے غیر انسانی جانور ہیں جن کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ آواز کی نقل کیے بغیر ایک دوسرے کے لیے مخصوص نام استعمال کرتے ہیں۔تحقیق کے مرکزی مصنف مائیکل پارڈو نے بتایا ہے کہ یہ تحقیق ناصرف ظاہر کرتی ہے کہ ہاتھی ہر فرد کے لیے مخصوص آوازیں استعمال کرتے ہیں، بلکہ یہ بھی کہ وہ اپنے لیے کی جانے والی پکار کو پہچانتے اور اس پر ردِعمل دیتے ہیں، جبکہ دوسروں کے لیے کی جانے والی پکار کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔
مشین لرننگ پر مبنی الگورتھم کی مدد سے انہوں نے 469 الگ الگ پکاروں کی شناخت کی، ان میں 101 ہاتھی ایسے تھے جنہوں نے پکارا، جبکہ 117 ہاتھیوں کو مخاطب کیا گیا تھا۔ہاتھی مختلف نوعیت کی آوازیں نکالتے ہیں، جن میں بلند آواز سے چنگھاڑنے سے لے کر ایسی انتہائی دھیمی گونج دار آوازیں شامل ہیں جنہیں انسانی کان سن نہیں سکتے۔محققین نے یہ بھی نوٹ کیا ہے کہ بالغ ہاتھی بچوں کے مقابلے میں نام زیادہ استعمال کرتے ہیں، اس سے اشارہ ملتا ہے کہ یہ صلاحیت سیکھنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔