vosa.tv
Voice of South Asia!

امریکا میں ایچ ٹو اے ویزا پروگرام کے ذریعے تارکین وطن اسمگل کرنے کا الزام

0

امریکی ریاست جارجیا میں پانچ افراد پر عارضی زرعی کارکنوں کے لیے مخصوص ایچ ٹو اے ویزا پروگرام میں مبینہ فراڈ اور تارکین وطن کو غیر قانونی طور پر امریکا منتقل کرنے کی سازش میں فردِ جرم عائد کردی گئی۔

امریکی محکمہ انصاف کے مطابق جارجیا کی عدالت میں فردِ جرم کی نئی دستاویز منظر عام پر لائی گئی ہے، جس میں پانچ افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے ایچ ٹو اے پروگرام کا غلط استعمال کرتے ہوئے جعلی معلومات کی بنیاد پر عارضی ملازمت کے ویزے حاصل کیے اور غیر قانونی تارکین وطن کو امریکا منتقل کیا۔عدالتی دستاویزات کے مطابق جارجیا کےسے تعلق رکھنے والی 61 سالہ مارتھا اکوئینو، 49 سالہ ایونجیلینا اکوئینو دے گالوان اور 38 سالہ جولیو سروینٹس، جبکہ روئیلٹ سے تعلق رکھنے والے 41 سالہ مارکو سروینٹس اور میکسیکو سے تعلق رکھنے والے 31 سالہ خوان فیلیپے رومیرو لوپیز اس مبینہ منصوبے میں شامل تھے۔حکام کے مطابق ملزمان نے کارکنوں کی ملازمت اور رہائش سے متعلق غلط معلومات فراہم کیں اور ویزا حاصل کرنے یا امریکا میں کام شروع کرنے سے قبل کارکنوں سے غیر قانونی رقوم وصول کیں۔ الزام ہے کہ بعض کارکنوں کے پاسپورٹ اور دیگر شناختی دستاویزات بھی اپنے قبضے میں لے لیے گئے، جبکہ انہیں کام چھوڑنے یا وہاں سے جانے سے روکنے کے لیے دھمکیاں دی گئیں اور بعض مواقع پر تشدد بھی کیا گیا۔امریکی حکام کے مطابق کچھ کارکنوں کے ویزے ختم ہونے کے بعد بھی ملزمان نے انہیں امریکا میں رہنے میں مدد دی اور اضافی رقم کے عوض انہیں ملک کے دوسرے حصوں میں منتقل کرنے کی پیشکش بھی کی۔ حکام کے مطابق ملزمان پر ویزا فراڈ کی سازش، ویزا فراڈ اور مالی فائدے کے لیے غیر قانونی طور پر امریکا میں داخل ہونے کی ترغیب دینے سمیت مختلف الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ الزامات ثابت ہونے کی صورت میں بعض ملزمان کو ویزا فراڈ کی سازش اور ویزا فراڈ پر بالترتیب 5 اور 10 سال تک قید کی سزا ہوسکتی ہے، جبکہ غیر قانونی داخلے کی ترغیب دینے کے الزام میں بھی 10 سال تک قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ رومیرو لوپیز کو غیر قانونی تارک وطن کی حیثیت سے اسلحہ رکھنے پر 15 سال تک قید کا سامنا ہوسکتا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.