نیویارک کے میئر زہران ممدانی نے اعلان کیا ہے کہ جنوری 2026 سے ایپ پر مبنی ڈیلیوری ورکرز کو نئی ٹِپنگ پالیسی کے تحت 104 ملین ڈالر سے زائد اضافی ٹپس حاصل ہوچکی ہیں۔
محکمہ کنزیومر اینڈ ورکر پروٹیکشن (DCWP) کی رپورٹ کے مطابق شہر کی سخت کارروائی کے بعد ڈیلیوری ایپس کی گمراہ کن ٹِپنگ پریکٹس ختم ہونے سے ورکرز کی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔رپورٹ کے مطابق نیویارک کے تقریباً 70 ہزار ڈیلیوری ورکرز سالانہ 184 ملین ڈالر اضافی ٹپس حاصل کرنے کی راہ پر ہیں، جبکہ اوسطاً ہر ورکر کی سالانہ آمدنی میں تقریباً 2,287 ڈالر کا اضافہ متوقع ہے۔میئر ممدانی نے کہا کہ ماضی میں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں ٹِپ کا آپشن چھپا کر اپنے منافع میں اضافہ کرتی تھیں، لیکن اب قانون پر سختی سے عمل درآمد کے باعث یہ رقم دوبارہ محنت کشوں کی جیب میں جا رہی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ نئی پالیسی نافذ ہونے کے بعد فی ڈیلیوری اوسط ٹِپ 1.18 ڈالر سے بڑھ کر 2.29 ڈالر ہوگئی، جبکہ فوڈ ڈیلیوری کی طلب میں کوئی کمی نہیں آئی اور ہر ہفتے ریکارڈ 33 لاکھ آرڈرز کیے جا رہے ہیں۔شہری حکام کے مطابق دسمبر 2023 سے نافذ کم از کم اجرت کے قانون سمیت دیگر اصلاحات کے نتیجے میں ڈیلیوری ورکرز کی مجموعی آمدنی میں اب تک 2 ارب ڈالر سے زائد کا اضافہ ہوچکا ہے۔