عام طور پر معمولی عادت سمجھ کر نظر انداز کی جانے والی بہت سی عادتیں کب ذہنی عارضے کی شکل اختیار کرلیتی ہیں؟ اس کا انکشاف بعد میں ہوتا ہے جیسے کہ ایک ہی کام بار بار کرنا، اسے او سی ڈی کہا جاسکتا ہے۔
کیا بار بار ہاتھ دھونا صرف صفائی کی عادت ہے؟کیا دروازے کا تالا بار بار چیک کرنا محض احتیاط ہے؟یا چیزوں کو ایک خاص ترتیب میں رکھنا صرف پسند؟ہر بار ایسا ہونا صرف عادت نہیں ہوتا۔ بعض صورتوں میں یہ او سی ڈی یعنی اوبسیسو کمپلسیو ڈس آڈرکی علامت بھی ہوسکتی ہے۔او سی ڈی ایک ذہنی عارضہ ہے جس میں انسان کے ذہن میں بار بار ایسے خیالات، خدشات یا وسوسے آتے ہیں جنہیں وہ غیر ضروری سمجھنے کے باوجود روک نہیں پاتا۔
ان خیالات سے پیدا ہونے والی بے چینی کم کرنے کے لیے وہ کچھ کام بار بار کرنے پر مجبور محسوس کرسکتا ہے۔مثلاً ہاتھ بار بار دھونا، دروازے کا تالا کئی مرتبہ چیک کرنا، چیزوں کو ایک مخصوص ترتیب میں رکھنا، کسی چیز کو بار بار چھونا یا بعض صورتوں میں بار بار آنکھیں میچنا۔مسئلہ اس وقت زیادہ اہم ہوجاتا ہے جب یہ رویے صرف عادت تک محدود نہ رہیں بلکہ انسان کے روزمرہ معمولات، کام، تعلیم یا تعلقات کو متاثر کرنے لگیں۔
او سی ڈی کو سمجھنے میں ایک بڑی رکاوٹ یہ بھی ہے کہ بعض افراد اپنی علامات کو صرف وہم، ضد یا صفائی پسندی سمجھتے رہتے ہیں، جبکہ گھر اور اردگرد کے لوگ بھی انہیں غیر ضروری طور پر ضدی یا غیر منطقی قرار دے سکتے ہیں۔لیکن کیا ہر بار ہاتھ دھونا یا تالا دوبارہ چیک کرنا او سی ڈی ہے؟ نہیں۔صرف کسی ایک عادت کی موجودگی سے او سی ڈی کی تشخیص نہیں کی جاسکتی۔
تشخیص کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ خیالات اور مجبوری کے اعمال کتنے بار ہوتے ہیں، ان پر قابو پانا کتنا مشکل ہے اور وہ زندگی کو کس حد تک متاثر کررہے ہیں۔اگر بار بار آنے والے خیالات یا مجبوری کے اعمال آپ کی روزمرہ زندگی میں خلل ڈال رہے ہیں تو انہیں محض عادت یا وہم سمجھ کر نظر انداز کرنے کے بجائے ماہرِ صحت سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔کیونکہ بروقت مدد اور مناسب علاج سے او سی ڈی کی علامات کو قابو کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔