امریکی ریاست کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے 39 سالہ کائی ساتو کو بحرالکاہل میں 30 روز تک سمندر میں پھنسے رہنے کے بعد بحفاظت بچا لیا گیا۔
ان کی کشتی خراب ہوگئی تھی۔ جبکہ راستہ معلوم کرنے کے لیے استعمال ہونے والا فون بھی بند ہوگیا، جس کے باعث وہ سمندر میں بے یار و مددگار رہ گئے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق کائی ساتو نے پی وی سی پائپوں اور کیاک کے چپوؤں سے کشتی کی مرمت کی کوشش کی، جبکہ پینے کے پانی کی کمی پر پلاسٹک بیگ سے بننے والی نمی جمع کرکے اپنی پیاس بجھائی۔ وہ دلیہ، مچھلی اور کشتی پر آنے والے اسکویڈ کھا کر زندہ رہے۔تقریباً ایک ماہ بعد ان کی کشتی ہوائی سے تقریباً 900 میل دور ایک مال بردار بحری جہاز کے عملے کو نظر آئی، جس نے ڈیڑھ گھنٹے کی کارروائی کے بعد انہیں بحفاظت ریسکیو کرلیا۔ صحت یاب ہونے کے بعد کائی ساتو نے دوبارہ سمندری سفر کرنے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔