نیویارک: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان پر پاکستان نے حقِ جواب دیتے ہوئے بھارت پر ریاستی سطح پر پراپیگنڈا، دہشت گردی کی سرپرستی، علاقائی بالادستی اور ہندوتوا نظریے کو فروغ دینے کے الزامات عائد کیے ہیں۔
پاکستانی مندوب قونصلر صائمہ سلیم نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان بھارتی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کی قیمت سے بخوبی واقف ہے اور رواں صدی کے آغاز سے دہشت گردی کے باعث پاکستان میں تقریباً ایک لاکھ جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی برادری کے سامنے تحریک طالبان پاکستان، بلوچستان لبریشن آرمی اور مجید بریگیڈ سمیت دہشت گرد گروہوں کی مبینہ بھارتی معاونت اور سرپرستی کے شواہد پیش کر چکا ہے۔ صائمہ سلیم نے سوال اٹھایا کہ بھارت پاکستان میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی واضح مذمت کب کرے گا۔پاکستانی مندوب نے کلبھوشن جادھو، نکھل گپتا اور کینیڈا میں پیش آنے والے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے بھارت پر دہشت گردی اور مبینہ بیرونِ ملک کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزامات بھی عائد کیے۔جموں و کشمیر کے معاملے پر صائمہ سلیم نے کہا کہ یہ ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تنازع ہے اور کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت حاصل ہے۔ ان کے مطابق پاکستان جموں و کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی پاسداری کا مطالبہ کرتا ہے۔انہوں نے بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک اور ہندوتوا نظریے کو ریاستی پالیسی میں شامل کرنے کے الزامات بھی عائد کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلمانوں، عیسائیوں، دلتوں اور سکھوں کے حقوق سے متعلق صورتحال پر عالمی برادری کو توجہ دینی چاہیے۔سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے پاکستانی مندوب نے بھارت کی جانب سے معاہدے کو ’التوا میں رکھنے‘ کے اقدام کو بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کے منافی قرار دیا اور کہا کہ پانی پاکستان کے کروڑوں عوام کے لیے بنیادی ضرورت ہے۔صائمہ سلیم نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، باہمی احترام، مکالمے اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے پرعزم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان جارحیت کی صورت میں اپنا دفاع کرے گا، تاہم امن کی راہ ترک نہیں کرے گا۔