نیویارک کے میئر زہران ممدانی نے اعلان کیا ہے کہ شہر کی انتظامیہ نے صارفین کے حقوق کی خلاف ورزیوں پر ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے معروف سیلف اسٹوریج کمپنی ایکسٹرا اسپیس سے 17 لاکھ ڈالر کا تصفیہ حاصل کر لیا ہے۔
شہری امور کے محکمے کی تحقیقات کے مطابق کمپنی نے صارفین کو کم قیمتوں کا لالچ دے کر بعد میں اچانک کرایوں میں غیر معمولی اضافہ کیا، خراب اور گندگی سے بھرے اسٹوریج یونٹس فراہم کیے، جبکہ بعض صارفین کا سامان مناسب قانونی کارروائی کے بغیر ضبط کرکے نیلام بھی کردیا۔معاہدے کے تحت کمپنی متاثرہ صارفین کو 10 لاکھ ڈالر بطور معاوضہ ادا کرے گی، جبکہ 7 لاکھ ڈالر سے زائد جرمانے اور دیگر اخراجات بھی ادا کیے جائیں گے۔تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ کمپنی نے چوہوں، پھپھوندی اور پانی سے متاثرہ یونٹس کو صاف ستھرا ظاہر کرکے کرائے پر دیا، خفیہ فیسیں وصول کیں اور کئی صارفین کو ان کے سامان تک رسائی سے بھی محروم رکھا۔تصفیے کے بعد کمپنی کو گمراہ کن اشتہارات، اچانک قیمتوں میں اضافے اور قانونی کارروائی مکمل کیے بغیر صارفین کا سامان ضبط یا نیلام کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی قیمتوں میں اضافے سے قبل مناسب پیشگی اطلاع دینا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔