امریکی ریاست ایریزونا کی رہائشی ایک خاتون نے کورونا وبا کے دوران ٹیکس ریلیف پروگرام سے 7.7 ملین ڈالر سے زائد کی رقم دھوکے سے حاصل کرنے کی کوشش کا جرم قبول کر لیا ہے۔
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق ریجینا ڈرکن نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر آئی آر ایس میں جعلی سہ ماہی ایمپلائمنٹ ٹیکس ریٹرنز جمع کرائے۔ ان ریٹرنز کے ذریعے ایمپلائی ریٹینشن کریڈٹ اور پیڈ سِک اینڈ فیملی لیو کریڈٹ کی مد میں ریفنڈز طلب کیے گئے، حالانکہ متعلقہ کمپنیاں فعال ہی نہیں تھیں، ان کے کوئی ملازمین نہیں تھے اور نہ ہی کسی کو تنخواہیں ادا کی گئی تھیں۔تحقیقات کے مطابق ملزمان نے مجموعی طور پر 14 جعلی ٹیکس ریفنڈ کلیمز جمع کرائے جن کے ذریعے7.7 ملین ڈالر سے زائد حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔ ریجینا ڈرکن نے جعلی کلیمز جمع کرانے کی سازش کے ایک الزام میں جرم قبول کر لیا ہے۔عدالت نے ان کی سزا کے لیے 11 ستمبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔ اس جرم میں انہیں زیادہ سے زیادہ 10 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے، تاہم حتمی سزا کا فیصلہ وفاقی جج شواہد اور امریکی سزاؤں کے رہنما اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کریں گے۔