گولڈن ویزا پروگرامز ختم ہو رہے ہیں یا نئی شکل اختیار کر رہے ہیں؟
دنیا بھر میں سرمایہ کاری کے بدلے رہائش یا شہریت دینے والے پروگرامز، جنہیں عام طور پر "گولڈن ویزا” کہا جاتا ہے، گزشتہ چند برسوں سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ کئی ممالک نے ان اسکیموں کو محدود کر دیا ہے یا مکمل طور پر بند کر دیا ہے، جبکہ بعض ممالک نے انہیں نئے قواعد و ضوابط کے ساتھ جاری رکھا ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق گولڈن ویزا پروگرامز پر تنقید کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کے ذریعے جائیدادوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے، جس سے مقامی شہریوں کے لیے گھر خریدنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بعض حکومتوں اور ریگولیٹرز نے منی لانڈرنگ، ٹیکس چوری اور بدعنوانی کے خدشات کا بھی اظہار کیا ہے۔یورپ میں مختلف ممالک نے مختلف پالیسیاں اختیار کی ہیں۔ اسپین نے اپریل 2025 میں اپنا گولڈن ویزا پروگرام مکمل طور پر بند کر دیا، جبکہ پرتگال نے جائیداد کے راستے کو ختم کرتے ہوئے سرمایہ کاری فنڈز، ثقافتی اور سائنسی منصوبوں میں سرمایہ کاری کے متبادل راستے برقرار رکھے ہیں۔ تاہم پرتگال میں شہریت کے حصول کا دورانیہ مزید طویل ہونے کا امکان ہے۔آئرلینڈ نے 2023 میں اپنا امیگرنٹ انویسٹر پروگرام نئے درخواست دہندگان کے لیے بند کر دیا تھا، تاہم چند محدود مواقع اب بھی موجود ہیں۔ دوسری جانب اٹلی سرمایہ کاروں کے لیے یورپی یونین کے پرکشش ترین ممالک میں شمار ہونے لگا ہے، جہاں سرکاری بانڈز، کمپنیوں، اسٹارٹ اپس اور فلاحی منصوبوں میں سرمایہ کاری کے ذریعے رہائش حاصل کی جا سکتی ہے۔ یونان بھی اب تک جائیداد کی بنیاد پر رہائشی اجازت نامے فراہم کرنے والے چند یورپی ممالک میں شامل ہے، اگرچہ اس کے لیے سرمایہ کاری کی حد بڑھا دی گئی ہے۔یورپ سے باہر بھی صورتحال تبدیل ہو رہی ہے۔ نیوزی لینڈ نے اپنی سرمایہ کار پالیسیوں میں تبدیلیاں کی ہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات نے سرمایہ کاروں، کاروباری افراد اور ہنر مند پیشہ ور افراد کو متوجہ کرنے کے لیے اپنے گولڈن ویزا پروگرام کو مزید وسعت دی ہے۔ کوسٹا ریکا اور امریکا میں بھی سرمایہ کاروں کے لیے مختلف پروگرام توجہ حاصل کر رہے ہیں۔