امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے تاریخی امن معاہدے پر الیکٹرانک دستخط کر دیے ہیں جس کا اعلان پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کیا، جنہوں نے اس معاہدے میں ثالث کا کردار ادا کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خصوصی بیان میں بتایا کہ یہ معاہدہ فوری طور پر لاگو ہو جائے گا جس کے تحت ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ عام جہازوں کے لیے کھول دے گا اور امریکا ایران کی بندرگاہوں پر اپنی بحری ناکہ بندی ہمیشہ کے لیے ختم کر دے گا۔ وزیراعظم نے اس کامیابی کا سہرا امریکی صدر ٹرمپ، ایران کے سپریم لیڈر اور صدر پزشکیان کے ساتھ ساتھ پاکستانی فوج کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو دیا جن کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس پورے معاملے کو حل کرانے میں ان کا کردار سب سے اہم اور بہترین ثابت ہوا۔ امریکی جانب سے جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر جبکہ ایران کی طرف سے باقر قالیباف، عباس عراقچی اور سکندر مومنی نے اس معاہدے کو حتمی شکل دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ صدر ٹرمپ نے فرانس کے دورے کے دوران صدر میکرون کے ساتھ رات کے کھانے پر اس دستاویز پر دستخط کیے اور پاکستان و قطر کی کوششوں کی کھل کر تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم نے انہیں بتایا تھا کہ ایک بہت بڑا کام ہونے جا رہا ہے اور اس تاریخی معاہدے کو کرانے میں پاکستان کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے معاہدے پر دستخط کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جنیوا میں دونوں ممالک کی مذاکراتی ٹیمیں اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق موجود رہیں گی تاہم آئندہ مذاکرات کے حتمی شیڈول کا فیصلہ اگلے چند گھنٹوں میں سامنے آئے گا۔