امریکا میں متعدد تارکین وطن امیگریشن عدالتوں میں وکیل کے بغیر پیش ہونے پر ملک بدری کے خطرے سے دوچار ہیں۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق کیلیفورنیا میں ایک پروگرام کے تحت رضاکار وکلا ایسے تارکین وطن کی مدد کے لیے امیگریشن عدالتوں میں پہنچتے ہیں جن کے پاس قانونی نمائندگی موجود نہیں ہوتی۔پروگرام کی رابطہ کار وکیل کمل پریت چوھان کے مطابق عدالت میں بغیر وکیل پیش ہونے والے افراد اکثر قانونی کارروائی کو سمجھ نہیں پاتے، جس سے انہیں اپنے کیس میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔امریکا کی امیگریشن عدالتوں میں تارکین وطن کو سرکاری طور پر وکیل فراہم کرنے کی ضمانت نہیں ہوتی۔ انہیں نجی وکیل کی خدمات حاصل کرنا پڑتی ہیں، جس پر ہزاروں ڈالر خرچ آسکتے ہیں، یا پھر کم آمدنی والے افراد کے لیے کام کرنے والی غیر منافع بخش تنظیموں سے مدد لینا پڑتی ہے۔تاہم قانونی معاونت فراہم کرنے والی تنظیموں میں طویل انتظار اور امیگریشن وکلا کی کمی کے باعث بہت سے تارکین وطن بغیر قانونی نمائندگی کے ہی عدالتوں کا سامنا کرتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق موجودہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے ملک بدری کی کارروائیوں میں تیزی کے باعث قانونی نمائندگی کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔