vosa.tv
Voice of South Asia!

 پاکستان کی ثالثی میں امریکا ایران مذاکرات کا ایک ماہ

0

امریکا اور ایران کے درمیان جاری امن مذاکرات گزشتہ ایک ماہ کے دوران مسلسل سفارتی اتار چڑھاؤ اور کشیدگی کا شکار رہے، جن میں پاکستان نے ثالثی کا کردار ادا کیا، تاہم اب تک کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پا سکا۔ 

جوہری پروگرام، پابندیاں اور آبنائے ہرمز جیسے حساس معاملات دونوں ممالک کے درمیان بنیادی اختلافات کی وجہ بنے رہے، جس سے بات چیت کبھی آگے بڑھی تو کبھی تعطل کا شکار ہو گئی۔امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کی رپورٹ کے مطابق اس سفارتی عمل کا آغاز پاکستان میں ہونے والی ابتدائی بات چیت سے ہوا، جہاں 11 اپریل کو اسلام آباد میں دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹے طویل مذاکرات ہوئے۔ تاہم 12 اپریل کو امریکا کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا کہ فریقین کسی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے، جس کی بڑی وجہ ایران کا اپنے جوہری پروگرام پر مؤقف برقرار رکھنا تھا۔بعد ازاں 15 اپریل کو پاکستان کے آرمی چیف کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطح وفد تہران پہنچا، جہاں ایرانی صدر اور وزیر خارجہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتوں میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل پر بات چیت کی گئی۔ اسی دوران امریکا نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کیں جبکہ ایران نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے دفاعی مؤقف اختیار کیا۔اس ایک ماہ کے دوران قطر اور پاکستان کی ثالثی کوششیں بھی جاری رہیں، جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز پر خودمختاری اور جنگی نقصانات کے ازالے کی نئی تجاویز پیش کیں، جنہیں امریکا نے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ 3 سے 7 مئی کے دوران کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی، تاہم بعض اوقات سفارتی رابطوں میں بہتری کے اشارے بھی ملے۔9 سے 11 مئی کے دوران ایک بار پھر ثالثی کوششیں تیز ہوئیں، مگر فریقین اپنے مؤقف سے پیچھے نہ ہٹ سکے۔ مجموعی طور پر ایک ماہ کے مذاکرات کے باوجود کوئی جامع معاہدہ سامنے نہیں آ سکا، البتہ سفارتی رابطے اور علاقائی کوششیں بدستور جاری ہیں۔ماہرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان یہ مذاکرات نازک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، جہاں معمولی اختلاف بھی پورے عمل کو متاثر کر سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا علاقائی ثالثی ان دونوں ممالک کو کسی پائیدار معاہدے تک پہنچا سکے گی یا یہ کوششیں بھی ماضی کی طرح ناکامی سے دوچار ہوں گی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.