امریکا میں غیر ملکی ڈاکٹروں کو ریلیف، ہزاروں تارکین وطن اب بھی انتظار میں
امریکا میں ٹرمپ انتظامیہ نے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹروں کی امیگریشن درخواستوں پر عائد پابندی میں نرمی کرتے ہوئے ان کے ویزا اور گرین کارڈ کیسز دوبارہ دیکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس فیصلے سے خاص طور پر ان غیر ملکی ڈاکٹروں کو وقتی ریلیف ملا ہے جو امریکی اسپتالوں اور دیہی علاقوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے گزشتہ برس کئی ممالک کے شہریوں کی گرین کارڈ اور ویزا درخواستوں پر کارروائی روک دی تھی۔ ان ممالک میں ایران، افغانستان اور وینزویلا سمیت درجنوں ممالک شامل ہیں۔ حکومت کا مؤقف تھا کہ سخت جانچ پڑتال قومی سلامتی کے لیے ضروری ہے، جبکہ امیگریشن وکلا اور انسانی حقوق تنظیموں نے اس اقدام کو قانونی تارکین وطن کے لیے مشکلات پیدا کرنے کی کوشش قرار دیا۔متاثرہ افراد میں سائنسدان، محققین اور کاروباری شخصیات بھی شامل ہیں جن میں سے کئی افراد کام کرنے، ہیلتھ انشورنس حاصل کرنے اور ڈرائیونگ لائسنس بنوانے سے محروم ہو چکے ہیں۔دوسری جانب ایرانی طلبہ اور محققین کا کہنا ہے کہ ایران میں جاری جنگی صورتحال اور انٹرنیٹ بندش کے باعث وہ اپنے اہل خانہ سے بھی رابطہ نہیں کر پا رہے جبکہ امریکا میں ان کی زندگیاں غیر یقینی کا شکار ہیں۔