امریکا میں وفاقی حکام نے کچھوؤں کی غیر قانونی اسمگلنگ کے الزام میں لوزیانا سے تعلق رکھنے والے البرٹ بازار نامی شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔ عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد ملزم کو تحویل میں رکھنے کا حکم دیا ہے جبکہ آئندہ سماعت 14 مئی کو فینکس میں ہوگی۔
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق البرٹ بازار پر الزام ہے کہ اس نے 2022 سے 2023 کے دوران فلوریڈا کے سے 1700 سے زائد نایاب “لاگرہیڈ مسک ٹرٹلز”، 100 “اسٹرائپ نیک مسک ٹرٹلز” اور 15 “اسٹرائپڈ مڈ ٹرٹلز” غیر قانونی طور پر پکڑ کر فروخت کیے۔ حکام کے مطابق یہ کچھوے ایشیائی پالتو جانوروں کی مارکیٹ میں پانچ لاکھ پچاس ہزار ڈالر سے زائد مالیت رکھتے ہیں۔تحقیقات کے مطابق ملزم نے ایک ساتھی کے ساتھ مل کر سان فرانسسکو کے ذریعے ان کچھوؤں کو تائیوان بھیجا اور برآمدی اجازت نامے حاصل کرنے کے لیے جھوٹا دعویٰ کیا کہ یہ کچھوے قانونی طور پر فارموں میں افزائش کیے گئے تھے۔ استغاثہ کے مطابق ملزم نے جعلی دستاویزات میں یہ بھی ظاہر کیا کہ کچھوے الاباما اور جارجیا میں قانونی طریقے سے پالا گیا تھا۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقسام بین الاقوامی جنگلی حیات کے تحفظ کے معاہدے “سائٹس” کے تحت محفوظ ہیں۔ اگر جرم ثابت ہو گیا تو ملزم کو ہر الزام پر پانچ سال تک قید اور ڈھائی لاکھ ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔