vosa.tv
Voice of South Asia!

آبنائے ہرمز پر ٹرمپ انتظامیہ کے متضاد بیانات، عالمی سطح پر تشویش بڑھ گئی

0

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے ایران اور آبنائے ہرمز کے معاملے پر مسلسل بدلتے ہوئے بیانات نے دنیا بھر میں الجھن اور تشویش پیدا کر دی ہے۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران امریکی حکام کی جانب سے جنگ، جنگ بندی اور بحری آپریشن سے متعلق مختلف اور متضاد مؤقف سامنے آئے ہیں۔

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ امریکی فوج آبنائے ہرمز میں پھنسے بحری جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کر رہی ہے اور یہ کارروائی صرف دفاعی نوعیت کی ہے۔ ان کے مطابق جنگ بندی اب بھی برقرار ہے، حالانکہ ایران کی جانب سے امریکی افواج پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے تھے۔ بعد ازاں وزیر خارجہ مارکو روبیو نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوجی آپریشن اپنے مقاصد حاصل کر چکا ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ صدر ٹرمپ اب ایران کے ساتھ کسی معاہدے کے خواہاں ہیں تاکہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھولی جا سکے۔اسی دوران صدر ٹرمپ نے پہلے بحری جہازوں کی حفاظت کا عمل عارضی طور پر روکنے کا اعلان کیا، لیکن چند گھنٹوں بعد ہی ایران کو دوبارہ شدید بمباری کی دھمکی دے دی۔ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر تہران امریکی شرائط تسلیم نہیں کرتا تو حملے پہلے سے زیادہ سخت ہوں گے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی غیر واضح دکھائی دے رہی ہے۔ واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ کی سینئر فیلو الزبتھ ڈینٹ کے مطابق جنگ کی منصوبہ بندی مناسب انداز میں نہیں کی گئی، جس کی وجہ سے عوام اور اتحادی ممالک میں اعتماد کی کمی پیدا ہوئی۔ انٹرنیشنل کرائسز گروپ کے ایران ڈائریکٹر علی واعظ نے کہا کہ امریکی پالیسی اچانک فیصلوں پر مبنی محسوس ہوتی ہے اور لگتا ہے کہ صدر ٹرمپ خود بھی اس تنازع سے سیاسی طور پر پیچھے ہٹنا چاہتے ہیں۔آبنائے ہرمز عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے کیونکہ دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔ مسلسل کشیدگی کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں اور معاشی دباؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ امریکا اپنے اتحادیوں کو بھی اس مشن میں شامل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم برطانیہ اور فرانس نے اب تک براہ راست فوجی شرکت سے گریز کیا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.