vosa.tv
Voice of South Asia!

امریکی ووٹرز کو ملک کا مستقبل خطرے میں دکھائی دینے لگا

0

امریکا میں وسط مدتی انتخابات سے قبل مختلف سیاسی نظریات رکھنے والے ووٹرز نے ملک کی بدلتی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ریپبلکن اور ڈیموکریٹک جماعتوں کے حامیوں کے درمیان اختلافات کے باوجود ایک بات مشترک دکھائی دیتی ہے کہ انہیں امریکا کی وہ پہچان اور اقدار خطرے میں محسوس ہو رہی ہیں جن سے وہ برسوں سے واقف ہیں۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ملک کی مختلف ریاستوں میں ووٹرز سے گفتگو کے دوران سیاسی تقسیم، بڑھتی نفرت، بدعنوانی، مہنگائی، امیر طبقے کے بڑھتے اثرورسوخ اور حکومتی پالیسیوں پر بے چینی نمایاں رہی۔رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی حکمت عملی اور سخت بیانات بھی ووٹرز کے درمیان اختلافات کی بڑی وجہ بنے ہوئے ہیں۔ بعض ووٹرز نے ان پر معاشرے میں نفرت اور تقسیم بڑھانے کا الزام لگایا، جبکہ ان کے حامیوں نے سرحدی سکیورٹی، ٹیکس میں کمی اور امریکی صنعتوں کی بحالی کے اقدامات کو سراہا۔کچھ سابق ریپبلکن ووٹرز نے بھی اس بار ڈیموکریٹک امیدواروں کی حمایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ امیگریشن پالیسیوں پر عمل درآمد، قانونی تقاضوں اور عام شہریوں کے حقوق کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔اے پی سے گفتگو کرنے والے متعدد ووٹرز نے ارب پتی کاروباری شخصیات کے سیاسی اثرورسوخ پر بھی سوالات اٹھائے۔ ان کے مطابق دولت مند طبقے کے بڑھتے اثرات جمہوری نظام اور عوامی مفادات کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔مہنگائی اور ایندھن کی بڑھتی قیمتیں بھی انتخابی مہم میں اہم موضوعات رہیں۔ بعض ٹرمپ حامیوں نے ایران جنگ کے تناظر میں پٹرول کی بلند قیمتوں کو عارضی مشکل قرار دیتے ہوئے صدر کی پالیسیوں کی حمایت جاری رکھنے کا عندیہ دیا، جبکہ مخالفین نے مہنگے ایندھن، خوراک اور علاج معالجے کو حکومتی پالیسیوں سے جوڑا۔رپورٹ کے مطابق امریکی ووٹرز کے سیاسی خیالات مختلف ضرور ہیں، تاہم ملک میں بڑھتی تقسیم، معاشی دباؤ اور مستقبل کے بارے میں بے یقینی دونوں سیاسی سمتوں کے لوگوں میں پائی جاتی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.