امریکی حکومت نے تارکین وطن سے متعلق پبلک چارج قانون میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے سرکاری مراعات کے استعمال کو امیگریشن فیصلوں میں زیادہ وسیع پیمانے پر زیرِ غور لانے کی اجازت دے دی ہے۔
نئے ضابطے کے تحت وفاقی حکومت تارکین وطن کی جانب سے آمدن یا مالی استطاعت کی بنیاد پر حاصل کی جانے والی تقریباً تمام سرکاری مراعات کو مدِنظر رکھ سکے گی، جس پر نیویارک سمیت مختلف شہروں اور تارکین وطن کے حقوق کیلئے کام کرنے والی تنظیموں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔نیویارک، شکاگو، سیئٹل، سان فرانسسکو اور دیگر مقامی حکومتوں کے نمائندوں نے اس ضابطے کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی تارکین وطن خاندانوں کو خوراک، رہائش، صحت اور دیگر ضروری سہولیات حاصل کرنے سے خوفزدہ کرسکتی ہے۔نیویارک کے حکام کے مطابق نئی پالیسی سے ایسے افراد بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے جو قانونی طور پر سرکاری سہولیات حاصل کرنے کے اہل ہیں۔ حکام نے خبردار کیا کہ خوف اور ابہام کے باعث تارکین وطن خاندان صحت اور دیگر بنیادی خدمات سے محروم رہ سکتے ہیں۔نیا پبلک چارج ضابطہ 18 ستمبر سے نافذ ہونے کی توقع ہے۔ نیویارک میں تارکین وطن مفت اور خفیہ قانونی مدد کیلئے متعلقہ ہاٹ لائن پر رابطہ کرسکتے ہیں یا 311 پر کال کرکے ’’امیگریشن لیگل‘‘ کہہ سکتے ہیں۔