سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت سعودی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں خطے کی تازہ صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے سعودی کابینہ نے ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں شہری اور اقتصادی تنصیبات کو حوثی ملیشیا کی جانب سے نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی۔
سعودی کابینہ نے واضح کیا کہ مملکت اپنی خودمختاری، قومی سلامتی، شہریوں اور مقیم افراد کے تحفظ اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گی۔کابینہ نے حوثی ملیشیا کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی بحری جہازوں اور بین الاقوامی بحری نقل و حرکت کو نشانہ بنانے کی بھی شدید مذمت کی۔اجلاس میں حملوں میں زخمی ہونے والے افراد کو اعلیٰ ترین طبی سہولیات اور نگہداشت فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔سعودی کابینہ نے فلسطین کے حوالے سے بھی عرب مشترکہ کوششوں کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے القدس اور مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی خلاف ورزیوں، آبادکاری اور جبری بے دخلی کی پالیسیوں کی مخالفت کی۔اجلاس میں سعودی عرب اور جرمنی کے درمیان اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے قیام کے لیے مفاہمتی یادداشت کا خیرمقدم کیا گیا، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان مشاورت، رابطے اور باہمی تعاون کو مزید فروغ دینا ہے