نیویارک میں یونائیٹڈ ہیلتھ کیئر کے سی ای او برائن تھامسن کے قتل کے مقدمے میں لوئیجی مانجیونے نے وفاقی سطح پر عائد اسٹاکنگ کے الزامات میں جرم قبول کرلیا۔
اے پی کے مطابق 28 سالہ مانجیونے نے مین ہٹن کی وفاقی عدالت میں اچانک سماعت کے دوران اعتراف کیا۔ اس اعتراف کے بعد ان کے وکلا ریاستی مقدمہ ختم کرنے کے لیے ڈبل جیوپرڈی کے قانونی اصول کا سہارا لینے کی کوشش کرسکتے ہیں۔پراسیکیوٹرز کے مطابق مانجیونے نے 4 دسمبر 2024 کو نیویارک کے ایک ہوٹل کے باہر 50 سالہ برائن تھامسن کو مبینہ طور پر گھات لگا کر نشانہ بنایا تھا۔ تھامسن اپنی کمپنی کی سالانہ سرمایہ کار کانفرنس میں شرکت کے لیے جارہے تھے۔واقعے کی نگرانی کی ویڈیو میں ایک نقاب پوش شخص کو تھامسن کو پیچھے سے گولی مارتے دیکھا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق گولیوں پر ڈیلے ڈیینائے ڈسپوز کے الفاظ درج تھے، جو انشورنس کمپنیوں کی جانب سے کلیمز کی ادائیگی میں تاخیر سے متعلق معروف فقرے کی طرف اشارہ تھا۔مانجیونے کو فائرنگ کے پانچ روز بعد پنسلوانیا کے شہر آلٹونا میں ایک میکڈونلڈز سے گرفتار کیا گیا تھا۔وفاقی اور ریاستی دونوں مقدمات میں اسے عمر قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ وفاقی عدالت پہلے ہی ایسے اضافی الزامات خارج کرچکی ہے جن کے نتیجے میں اسے سزائے موت کا سامنا ہوسکتا تھا۔