امریکا کی معاشی ترقی کی رفتار 2026 کی دوسری سہ ماہی میں سست ہو گئی، جہاں مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں اپریل سے جون کے دوران 1.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ پہلی سہ ماہی میں یہ شرح 2.1 فیصد تھی۔
امریکی محکمہ تجارت کے مطابق بڑھتے تجارتی خسارے، ایران کے ساتھ کشیدگی اور ایندھن کی بلند قیمتوں نے معیشت پر دباؤ ڈالا۔رپورٹ کے مطابق صارفین کے اخراجات میں 3.2 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بڑی وجہ ٹیکس ریفنڈز اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ تھا۔ امریکی آٹو موبائل ایسوسی ایشن کے مطابق ایک گیلن پٹرول کی اوسط قیمت 4.09 ڈالر تک پہنچ گئی، جو ایک ماہ قبل 3.84 ڈالر تھی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں سرمایہ کاری نے بھی معیشت کو سہارا دیا، تاہم درآمدات پر انحصار بڑھنے سے تجارتی خسارہ مزید وسیع ہوا۔دوسری جانب امریکی فیڈرل ریزرو کے مہنگائی کے اشاریے پرسنل کنزمپشن ایکسپنڈیچر (PCE) انڈیکس میں جون کے دوران سالانہ بنیاد پر 3.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ مئی میں یہ شرح 4.1 فیصد تھی۔ادھر امریکی فیڈرل ریزرو نے مہنگائی کے خدشات کے پیش نظر شرح سود 3.5 سے 3.75 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔