عالمی ادارہ صحت کے مطابق 21 جون کے بعد سے یورپ میں شدید گرمی کی لہر سے 1300 سے زائد اضافی اموات ریکارڈ کی جا چکی ہیں اور تقریباً 38 کروڑ 10 لاکھ یورپی شہریوں نے 30 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ درجہ حرارت کا سامنا کیا ہے۔
فرانس، جرمنی، اٹلی اور بیلجیم میں درجہ حرارت 40 ڈگری سے تجاوز کرنے کے بعد صحت اور ٹرانسپورٹ کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے۔ پولینڈ، ہنگری، جمہوریہ چیک، سلوواکیہ، سربیا، کروشیا، آسٹریا اور مغربی یوکرین میں بھی شدید گرمی جاری ہے۔ فرانس میں گرمی سے بچنے کے لیے دریاؤں اور نہروں کا رخ کرنے والے 74 افراد ڈوب کر ہلاک ہوئے۔ جرمنی کے شہر لیپزگ میں اسفالٹ پگھلنے اور ٹرام کی پٹریاں متاثر ہونے کے باعث ٹرام سروس پیر کی صبح تک معطل کر دی گئی۔عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم نے کہا کہ یورپ کی زیادہ تر عمارتیں اتنے شدید درجہ حرارت کو برداشت کرنے کے لیے تعمیر نہیں کی گئیں جس سے اثرات مزید سنگین ہو رہے ہیں۔ فرانس کی قومی صحت ایجنسی کے مطابق 24 جون سے اب تک متوقع تعداد سے تقریباً ایک ہزار زیادہ اموات ہوئی ہیں جن میں بیشتر 65 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد ہیں۔ ماہرین صحت نے بزرگوں، بچوں اور دائمی مریضوں کو دھوپ میں نکلنے سے گریز اور زیادہ پانی پینے کی ہدایت کی ہے۔