سعودی عرب میں پریمیم ریزیڈنسی ہولڈرز کے لیے نیا ورک پرمٹ لازمی قرار
سعودی عرب نے پریمیم ریزیڈنسی رکھنے والے غیر ملکیوں کے لیے نئی شرط عائد کرتے ہوئے مخصوص ورک پرمٹ حاصل کرنا لازمی قرار دے دیا ہے۔
سعودی حکام کے مطابق پریمیم ریزیڈنسی ہولڈرز کو اب مملکت کے ڈیجیٹل لیبر پلیٹ فارم "قیوا” کے ذریعے 100 سعودی ریال فیس ادا کرکے خصوصی ورک پرمٹ حاصل کرنا ہوگا۔ یہ ہدایات قیوا پلیٹ فارم کی جانب سے جاری کی گئی ہیں اور مقامی اخبار اوکاز نے بھی ان کی تصدیق کی ہے۔قیوا پلیٹ فارم، جو وزارتِ انسانی وسائل و سماجی ترقی کے تحت کام کرتا ہے، نے لیبر مارکیٹ سے متعلق مختلف خدمات اور ضوابط کی بھی وضاحت کی ہے۔ ان میں کاروباری سبسکرپشنز، تربیتی معاہدے، استعفیٰ کی درخواستیں اور ویزا سے متعلق سہولیات شامل ہیں۔سعودی عرب کا پریمیم ریزیڈنسی پروگرام وژن 2030 کا ایک اہم حصہ ہے، جس کا مقصد معیشت کو متنوع بنانا، غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور مملکت کو کاروبار اور جدت طرازی کا عالمی مرکز بنانا ہے۔ اس پروگرام کے تحت غیر ملکی شہری بغیر کفیل کے سعودی عرب میں رہائش، ملازمت اور سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2024 کے دوران 8 ہزار 74 پریمیم ریزیڈنسی پرمٹ جاری کیے گئے، جن میں سے 5 ہزار 578 پرمٹ غیر معمولی صلاحیتوں اور مہارتوں کے حامل افراد کو دیے گئے۔ دیگر کیٹیگریز میں سرمایہ کار، کاروباری شخصیات، جائیداد کے مالکان اور محدود یا مستقل مدت کی رہائش کے حامل افراد شامل ہیں۔سعودی حکومت نے 2024 میں پریمیم ریزیڈنسی پروگرام کو مزید وسعت دیتے ہوئے اس کی مختلف کیٹیگریز کی تعداد دو سے بڑھا کر سات کر دی تھی، جس کے بعد مزید شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے اس پروگرام سے فائدہ اٹھانے کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔