نیویارک میں امراضِ قلب پر کی گئی پانچ سالہ تحقیق کے تشویشناک نتائج سامنے آگئے۔ جنوبی ایشیائی کمیونٹی کے ساٹھ فیصد افراد کا دل کی بیماریوں میں مبتلا ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
نیویارک میں مقیم پاکستانی ، بنگلہ دیشی اور انڈین کمیونٹی کے افراد میں دل کی شریانوں میں سختی کے مرض پر کی گئی تحقیق کے نتائج نے سب کو چونکا کر رکھ دیا۔40 سے 84 سال کی عمر کے 60 فیصد افراد امراضِ قلب میں مبتلا پائے گئے ۔امریکن کونسل آف منارٹی وومن نےدی میڈی ایٹرز آف ایتھرو سیلروسز اِن ساوتھ ایشئن لیونگ ان امریکا اور این وائے یو کے اشتراک سے کی گئی تحقیق کے نتائج سے آگاہ کرنے کے لیے کونی آئی لینڈپرمنعقدہ سیمینار کا انعقاد تلاوتِ کلامِ پاک اور نعت رسول مقبول سے کیا گیا۔ آگہی سیمینار میں پاکستانی امریکن کمیونٹی کی کثیر تعداد شریک ہوئی ، مسالہ اسٹڈی کے اسسٹنٹ ریسرچ سائنٹسٹ ہارون ظفر نے تارکینِ وطن کی امریکا ہجرت سے لے کر تعلیم، سالانہ آمدنی، طرزِ زندگی، ورزش کا معمول، بلڈ پریشر، شوگر، ہائی کولیسٹرول ، گردوں کی بیماری ، سگریٹ و شراب نوشی اور بیماری کی صورت میں گھریلو ٹوٹکوں سے علاج کرانے کے اعدادو شمار سے تیار کی گئی پریزنٹیشن کے ذریعے خاصی تفصیل سے شرکاٗ کو امراضِ قلب کی وجوہات سے آگاہ کیا۔ ہارون ظفر کا کہنا تھا کہ نیویارک میں مقیم جنوبی ایشیائی باشندوں میں پاکستانی کمیونٹی کی اکثریت ہائی بلڈ پریشر، شوگر اور کولیسٹرول کے ساتھ دل کی مختلف بیماریوں کا شکار ہیں ، ایک دو سال میں مزید نتائج بھی سامنے آئیں گے۔ سیمینار کے دوران شرکا نے مختلف سوالات بھی کیے ۔ اس موقع پر امریکن کونسل آف منارٹی وومن کی چیئر پرسن بازہ روحی کا کہنا تھا کہ ہماری کمیونٹی نہ صرف نوجوان اور مرد بلکہ خواتین کو بھی اپنی رو ز مرہ کی مصروفیات اور خوراک کا جائزہ لینا چاہیے۔ مسالہ اسٹڈی میں 600 پاکستانی، 600 بنگلہ دیشی اور ساڑھے 900 سے زائد بھارتی کمیونٹی کے افراد کو شامل کیا گیا۔سیمینار میں شریک پاکستانی کمیونٹی کی ڈاکٹر عفت نے شرکا کو مشورہ دیا کہ سال میں کم از کم ایک بار اپنا مکمل طبی معائنہ ضرور کروائیں۔ سیمینار میں ہیلتھ فرسٹ اور یونائیٹڈ ہیلتھ کیئر کے نمائندوں نے حاضرین کو ہیلتھ انشورنس سے متعلق آگہی دی جبکہ مسالہ اسٹڈی کی ٹیم میں شامل افراد نے دل کی بیماریوں کی وجوہات سے آگاہ کیا۔ واضح رہے کہ مسالہ اسٹڈی نے یہ تحقیق این آئی ایچ کے فنڈ ز سے 2021 میں قومی سطح پر تین ریاستوں میں شروع کی تھی اور اس حوالے سے آئندہ بھی آگہی سیمینار منعقد کیے جائیں گے۔