امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ایک ٹیکس تیار کرنے والے شخص نے جعلی ٹیکس گوشوارے جمع کرا کے اور کووڈ ریلیف فنڈز میں فراڈ کر کے حکومت کو 25 ملین ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچانے کا اعتراف کر لیا ہے۔
71 سالہ کیروِن ایلڈرک جورڈن نے عدالت میں اپنے جرائم کا اعتراف کرتے ہوئے متعدد الزامات قبول کیے۔عدالتی دستاویزات کے مطابق ملزم نے خود کو ٹیکس وکیل اور مستند اکاؤنٹنٹ ظاہر کیا، حالانکہ وہ ان میں سے کچھ بھی نہیں تھا۔ اس نے اپنے کلائنٹس کے ٹیکس گوشواروں میں جعلی کاروبار اور فرضی نقصانات ظاہر کر کے ان کی قابلِ ٹیکس آمدنی کم کی، جس کے نتیجے میں غیر قانونی ٹیکس ریفنڈ حاصل کیے گئے۔حکام کا کہنا ہے کہ 2018 سے 2023 کے دوران ملزم نے 1,370 سے زائد ٹیکس گوشوارے جمع کرائے جن میں مجموعی طور پر 73 ملین ڈالر سے زائد کے جعلی کاروباری نقصانات ظاہر کیے گئے۔ اس فراڈ کے نتیجے میں امریکی خزانے کو 25 ملین ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچا۔اس کے علاوہ ملزم نے کووڈ-19 کے دوران فراہم کیے جانے والے کاروباری امدادی پروگرامز کے تحت بھی جھوٹی معلومات دے کر قرضے حاصل کیے، حالانکہ اس کے کاروبار میں کوئی ملازمین موجود نہیں تھے۔ عدالت نے کیس کی سماعت 5 اکتوبر کو مقرر کر دی ہے، جہاں ملزم کو زیادہ سے زیادہ 32 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔