vosa.tv
Voice of South Asia!

امریکا:عبادت گاہوں کے باہراحتجاج کی روک تھام کا بل تیار

0

امریکا  میں کسی بھی عبادت گاہ کے باہر اب احتجاج اور ہنگامہ آرائی نہیں چلے گی۔ کانگریس مین ٹام سوازی نے تمام مذاہب کی  عبادت گاہوں کے باہر سو فٹ کا بفر زون بنانے کے لیے باقاعدہ سیکرڈ ایکٹ کے نام سے بل لانے کی تیاریاں مکمل کر لی۔ مجوزہ قانون کے تحت اگر کسی نے بفر زون کی خلاف ورزی کی تو اسے جیل کی ہوا کھانا پڑے گی۔

نیویارک کے ہولوکاسٹ میموریل اینڈ ٹالرینس سینٹر میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران ڈیموکریٹک پارٹی سے رکنِ کانگریس ٹام سوزی  نے اس  مجوزہ  بل کے اہم  ترین نکات سے آگاہ  کرتے ہوئے بتایا  کہ مساجد، چرچ، سینیگاگز اور دیگر مذہبی مقامات کے باہر 100 فٹ کا ایسا محفوظ دائرہ قائم کیا جائے گا جہاں عبادت گزاروں کا راستہ روکنا جرم ہوگا۔پریس کانفرنس میں اینٹی ڈیفیمشن لیگ کے سی ای او جوناتھن گرین بلاٹ اور دیگر نے بھی سیکرڈ ایکٹ  بل کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔ مقررین کا کہنا تھا  انھیں امید ہے کہ یہ بل جلد ہی کانگریس سے منظور ہو کر باقاعدہ قانون کی شکل اختیار کر لے گا۔اس مجوزہ بل  کو مسلمان، ہندو، سکھ اور یہودی مذہب سمیت دیگر تنظیموں کی حمایت حاصل ہے ۔مقررین کا کہنا  تھا کہ امریکا میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ لوگ عبادتگاہوں میں  بھی  خوف محسوس کرنے لگے ہیں ۔مجوزہ  بل میں پہلی بار قانون توڑنے والے کو 1 سال قید اور10 ہزار ڈالر جرمانہ تجویز کیا گیا ہے  جبکہ بار بار جرم دہرانے کی صورت میں قید کی سزا 3 سال اور جرمانہ 25ہزار ڈالر تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی شخص بفر زون میں کسی پر حملہ کرے گا تو اسے 10 سال تک قید ہو سکتی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.