امریکی ریاست کیلیفورنیا میں امیگریشن حکام کی فائرنگ کا نشانہ بننے والے شخص کو گرفتار کرکے اس پر وفاقی اہلکار پر حملے کا مقدمہ درج کر دیا گیا ہے
36 سالہ کارلوس ایوان مینڈوزا ہرنینڈز کو امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کے اہلکاروں نے 7 اپریل کو ایک کارروائی کے دوران گولی مار دی تھی، جس میں وہ شدید زخمی ہوا۔ بعد ازاں فیڈرل بیورو آف انویسٹیگیشن نے اسے گرفتار کرکے اس پر خطرناک ہتھیار کے ذریعے حملے کا الزام عائد کر دیا۔حکام کا کہنا ہے کہ ملزم نے اپنی گاڑی کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے اہلکاروں کو کچلنے کی کوشش کی، تاہم واقعے کی ویڈیوز اور عینی شاہدین کے بیانات اس دعوے پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ ملزم کے وکیل کے مطابق اس نے گاڑی اس وقت آگے بڑھائی جب اس پر پہلے ہی فائرنگ ہو چکی تھی۔ابتدائی طور پر محکمہ برائے ہوم لینڈ سیکیورٹی نے ملزم کو ایک گینگ سے وابستہ قرار دیا تھا، تاہم بعد میں جاری ہونے والی عدالتی دستاویزات میں اس دعوے کا ذکر شامل نہیں کیا گیا، جس سے حکومتی مؤقف پر مزید شکوک پیدا ہو گئے ہیں۔یہ کیس ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امیگریشن کارروائیوں کے دوران فائرنگ کے واقعات اور بعد ازاں مقدمات کے اندراج پر پہلے ہی تنقید جاری ہے۔ اگر الزامات ثابت ہو گئے تو ملزم کو بیس سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے، جبکہ تحقیقات ابھی جاری ہیں۔