امریکا میں ایک بڑی سیکیورٹی کمپنی کو فوجی اہلکاروں سے غیر قانونی فیس وصول کرنے پر بھاری جرمانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے، جس کے تحت متاثرہ افراد کو مالی معاوضہ بھی دیا جائے گا۔
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق اے ڈی ٹی ایل ایل سی نے ہزاروں فوجی اہلکاروں سے اس وقت اضافی چارجز وصول کیے جب انہوں نے فوجی تبادلے کے احکامات ملنے کے بعد اپنی سروس ختم کی۔ یہ اقدام سروس ممبرز سول ریلیف ایکٹ کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔حکام کے مطابق کمپنی کم از کم 3,400 فوجیوں پر غیر قانونی 30 دن کے نوٹس کی شرط عائد کر رہی تھی، حالانکہ قانون کے تحت فوجی اہلکار تبادلے کے احکامات ملنے کے فوراً بعد بغیر کسی اضافی فیس کے معاہدہ ختم کرنے کا حق رکھتے ہیں۔معاہدے کے تحت کمپنی 13 لاکھ ڈالر سے زائد رقم متاثرہ فوجیوں کو ادا کرے گی جبکہ تقریباً 79 ہزار ڈالر کا اضافی جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا۔ اس کے ساتھ کمپنی کو اپنی پالیسی اور تربیتی نظام میں تبدیلیاں کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے تاکہ آئندہ ایسی خلاف ورزی نہ ہو۔حکام کا کہنا ہے کہ فوجی اہلکار ملک کی خدمت کرتے ہیں اور انہیں گھریلو سطح پر کمپنیوں کے ساتھ قانونی مسائل میں نہیں الجھنا چاہیے، اس لیے ایسے قوانین پر سختی سے عمل درآمد جاری رکھا جائے گا۔