لاس اینجلس میں واقع ایک بڑے اسٹیڈیم کے تقریباً دو ہزار ورکرز نے ورلڈ کپ میچز کے دوران ہڑتال کی دھمکی دے دی ہے، جس کے باعث ایونٹ کے انعقاد پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
برطانوی اخبار دی گارجین کے مطابق لاس اینجلس کے صوفی اسٹیڈیم ورکرز یونین سے وابستہ تقریباً دو ہزار ملازمین نے آئندہ فیفا ورلڈ کپ کے دوران ہڑتال کی دھمکی دی ہے۔ ملازمین نے کم اجرت، خراب ورکنگ کنڈیشنز اور امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کی ممکنہ موجودگی پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔یونین رہنما کرٹ پیٹرسن نے حکام کو لکھے گئے خط میں کہا کہ ورکرز کو بہتر تنخواہیں، محفوظ کام کا ماحول اور بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ماضی میں بھی ایسے عالمی مقابلوں کے دوران مزدوروں کے ساتھ ناانصافی ہوتی رہی ہے، جسے اب مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔سب سے بڑا تنازع امیگریشن ادارے کی موجودگی پر سامنے آیا ہے۔ یونین نے مطالبہ کیا ہے کہ میچز کے دوران امیگریشن حکام کو اسٹیڈیم اور شہر سے دور رکھا جائے کیونکہ اس سے ورکرز اور شائقین میں خوف پیدا ہوتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی کے لیے ایسے اداروں کی شمولیت ضروری ہوتی ہے۔یاد رہے کہ رواں سال گرمیوں میں لاس اینجلس میں ورلڈ کپ کے متعدد میچز کھیلے جائیں گے، جہاں بڑی تعداد میں شائقین کی آمد متوقع ہے۔ اگر ہڑتال ہوتی ہے تو نہ صرف ایونٹ متاثر ہوگا بلکہ شہر کی معیشت اور عالمی ساکھ کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔