ایران نے اسرائیل کے خلاف جاری کشیدگی کے دوران پہلی بار طویل فاصلے تک مار کرنے والے طاقتور سجیل اسٹریٹجک بیلسٹک میزائل کا استعمال کیا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق یہ حملہ آپریشن "وعدہ صادق” کی 54ویں لہر کے تحت کیا گیا جسے "یازہرہ” کا نام دیا گیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں اسرائیلی کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز اور اہم فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق سجیل میزائل ایک سالڈ فیول بیلسٹک میزائل ہے جسے تیزی سے لانچ کیا جا سکتا ہے۔ اس کی مار کرنے کی حد تقریباً دو ہزار سے ڈھائی ہزار کلومیٹر بتائی جاتی ہے جبکہ اس کی رفتار آواز کی رفتار سے تقریباً 13 گنا زیادہ یعنی ماخ 13 تک پہنچ سکتی ہے، جس کے باعث اسے خطے کے خطرناک میزائلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق اس میزائل کی رینج اتنی ہے کہ اس کے ذریعے مشرق وسطیٰ کے علاوہ مصر، سوڈان کے بعض علاقے، یوکرین کے بیشتر حصے، جنوبی روس، مغربی چین، بھارت اور بحیرۂ روم و بحیرۂ ہند کے وسیع علاقوں تک اہداف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق "سجیل” کا لفظ قرآن مجید کی سورۃ الفیل میں ذکر ہونے والے پتھروں کی طرف اشارہ کرتا ہے جن کے ذریعے دشمن پر حملہ کیا گیا تھا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس میزائل کے استعمال سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔